0
Tuesday 8 Jan 2019 08:04

جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان مہم کے دوسرے فیز کا اعلان کردیا

جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان مہم کے دوسرے فیز کا اعلان کردیا
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے منشور اور وعدے کے مطابق ملک کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کی طرف کوئی قدم نہ اٹھایا تو عوام زیادہ دیر خاموش رہیں گے نہ حکومت کو برداشت کریں گے۔ حکومت چاہے یا نہ چاہے، عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان کو اس کے قیام کے اس عظیم مقصد سے ہم آہنگ کیا جائے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ پاکستان محض ایک جغرافیہ نہیں، ایک نظریہ ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو نیک نیتی سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنے کا مشورہ بھی دیا، میڈیا ور پارلیمنٹ میں اس کے وعدوں کا خیر مقدم بھی کیا مگر حکومت کی 125 دنوں کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ حکومت اپنے وعدوں کے علی الرغم ملک کو لبرل اور سیکولر ریاست بنانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے جس کی واضح مثال قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کے بل کی مخالفت ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے احتساب کے نعرے کو سیاست کے لیے استعمال کیا اگر کرپشن فری پاکستان حکومت کی ترجیح ہوتا تو احتساب پر موجود گردو غبار چھٹ چکا ہوتا اور لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کا میکنزم بن چکا ہوتا۔ جماعت اسلامی کی شوریٰ نے کرپشن فری پاکستان تحریک کے دوسرے فیز کی منظوری دیدی ہے۔ کرپشن کے ناسور کو جڑوں سے ختم کرنے کے لیے جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان تحریک کو مزید فعال اور موثر بنائے گی اور 18 جنوری سے 17 فروری تک ملک کے بڑے بڑے شہروں میں عوامی جلسے کرے گی اور کرپشن کے میگا سکینڈلز کے فیصلوں پر زور دے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے مرکزی مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس کے بعد منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن، محمد اصغر اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس وقت ملک میں عدم استحکام، الجھاﺅ اور تلخیاں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی طرح خود حکمران بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں، اسی لیے وزیراعظم کی طرف سے قبل ازوقت الیکشن کی بات بھی سامنے آئی۔ امن عامہ کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، دہشتگردی نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے حکومت کو آئینہ دکھایا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ حالات نارمل نہیں ہیں خاص طور پر گزشتہ پانچ ماہ میں معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ سعودی عرب، عرب امارات کی امداد کے باوجود معیشت میں کوئی بہتری نہیں آسکی۔ روپیہ کی قدر میں 32 فیصد تک کمی آئی ہے اور ڈالر جو پہلے 100 روپے کا تھا، وہ 144 روپے تک جا پہنچا ہے۔ مہنگائی سے عام آدمی رو رہا ہے۔ تجارت پیشہ لوگ سخت اضطراب کا شکار ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ڈاکٹر فرخ سلیم جیسے نامور معاشی ماہر جنہیں حکومت نے خود مشیر بنایا تھا، وہ گواہی دے رہے ہیں کہ معیشت کی بہتری حکومت کے کسی ایجنڈے میں نہیں۔ عوام سی پیک کے حوالے سے بھی پریشان ہیں کہ کہیں حکومت نے اس منصوبے کو پس پشت تو نہیں ڈال دیا۔ قوم سخت کنفیوژ اور مخمصے میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم کی بھلائی اس میں ہے کہ عدالتوں پر اس کا اعتماد بحال ہو جائے۔ چیف جسٹس صاحب کی ریٹائرمنٹ میں چند ہی دن باقی ہیں لیکن اگر وہ چاہیں تو ان دنوں میں بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ انہیں عدالتوں میں پڑے لاکھوں مقدمات پر از خود نوٹس لیتے ہوئے ان مقدمات کو جلد نمٹانے اور لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 770829
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے