0
Thursday 17 Jan 2019 13:12

صوبہ نہیں آرڈر، سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آئینی حیثیت کیس کا فیصلہ جاری کر دیا

صوبہ نہیں آرڈر، سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آئینی حیثیت کیس کا فیصلہ جاری کر دیا
اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کیس کا فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے مطاق عبوری صوبے کے ذریعے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی تجویز کے برعکس صدارتی آرڈر کا ہی حکم دیا ہے، تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا پابند بنایا ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کا پابند ہے، الجہاد ٹرسٹ کیس میں حکومت پاکستان کو پابند کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی آزادی دے، بھارت اور پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں، ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ وفاق کی سفارش پر صدر پاکستان مجوزہ عدالتی حکم کو نافذ کریں، اس آرڈر میں کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی، آرڈر میں ترمیم صرف آئین کے آرٹیکل 124 میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی ہوسکتی ہے، اگر نافذ کردہ حکم کو تبدیل یا چیلنج کیا جائے تو آئین کی بنیادی روح کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اختیارات گلگت بلتستان میں بھی ہونگے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے گلگت بلتستان سے متعلق اختیارات محدود نہیں کئے جاسکتے، پارلیمنٹ اس حکم میں تبدیلی یا ترمیم کرے تو سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان والے سپریم ایپلٹ کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ پاکستان میں چیلنج کرسکتے ہیں، لیکن جی بی کی سپریم ایپلٹ کورٹ صدارتی آرڈر کو کالعدم قرار نہیں دے سکے گی۔ گلگت بلتستان کی عدالتیں جی بی آرڈیننس (آرڈر) کے ساتھ آئین پاکستان کی بھی تابع ہونگی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں، تاہم گلگت بلتستان کی عدالتیں گلگت بلتستان کونسل کی قانون سازی پر نظرثانی کرسکتی ہیں، گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے تحت مقننہ اور انتظامی ادارے قائم کئے گئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ تاریخی فیصلہ ہے۔ کمرہ عدالت میں گلگت بلتستان بار کونسل کے نمائندوں نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا۔ ادھر سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سپریم کونسل گلگت بلتستان ڈاکٹر غلام عباس نے عدالت کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام مایوس ہوگئے، عدالت نے کوئی واضح فیصلہ نہیں دیا، اب ہمارے پاس اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔
خبر کا کوڈ : 772590
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب