0
Sunday 20 Jan 2019 21:29

مساجد کو تجاوزات کا نام دیکر ڈھانا شعائر اسلام کی توہین ہے، مئیر کراچی دین دشمنی پر اتر آئے ہیں، قاری عثمان

مساجد کو تجاوزات کا نام دیکر ڈھانا شعائر اسلام کی توہین ہے، مئیر کراچی دین دشمنی پر اتر آئے ہیں، قاری عثمان
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام سندھ کے نائب صدر اور جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے رئیس قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ ہل پارک کی راہ نما مسجد کو شہید کرکے مئیر کراچی دین دشمنی پر اتر آئے ہیں، مساجد کو تجاوزات کا نام دیکر ڈھانا شعائر اسلام کی توہین ہے، ہل پارک کی راہ نما مسجد کو شہید کرکے کھلے عام فحاشی کا اڈہ قائم کیا جارہا ہے، مئیر کراچی تجاوزات کے خاتمے کے عدالتی حکم سے تجاوز کررہے ہیں۔ وہ ہل پارک کی شہید کی جانے والی راہ نما مسجد کے دورے کے دوران نمازیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر مولانا انور شاہ، امام راہ نما مسجد مولانا عبداللہ، جمال خان کاکڑ، قاری زین العابدین اور دیگر رہنما موجود تھے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ تجاوزات کے نام پر عدالتی حکم سے تجاوز برداشت نہیں کیا جائے گا، ہل پارک میں 40 سال سے قائم جامع مسجد راہ نما کو تجاوزات قرار دیکر شہید کئے جانا اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ منبر و محراب کی حرمت پامال نہیں کرنے دیں گے، مئیر کراچی اور سندھ حکومت دین دشمنی سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس و مساجد امن و سلامتی کے مراکز ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا عدالت نے مساجد مسمار کرنے کے احکامات صادر کئے تھے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر راہ نما مسجد ہل پارک کو کیوں شہید کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں تجاوزات کے نام پر آپریشن میں اب تک درجنوں مساجد کے شہید کئے جانے کے خلاف علماء کرام کو آواز بلند کرنی ہوگی، ورنہ جو کھیل میئر کراچی کے ذریعہ شروع کرایا گیا ہے اگر اسے روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو کراچی کی سینکڑوں مساجد کو شہید اور مدارس مسمار کردیا جائیگا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ ہل پارک کی مسجد کونسے ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی تھی جسے شہید کردیا ہے۔ انہوں نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں تجاوزات کے نام پرجاری آپریشن سے روشنیوں کے شہر کی ہونے والی تباہی اور مساجد کے شہید کئے جانے والے مظالم کو روکنے کے احکامات صادر فرماکر انصاف کا بول بالا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ دیکھا گیا ہے جہاں آبادی گرائی گئی ہے اور جس کو گرانا ناگزیر بھی رہا ہے تب بھی مساجد کو نہیں چھیڑا جاتا، ظلم کی انتہاء تو یہ ہے کہ ہل پارک میں تجاوزات کے نام پر صرف جامع مسجد راہ نما ہی کو شہید کیا گیا ہے جو بہرحال مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور شعائر اسلام پر براہ راست حملہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میئر وسیم اختر شہر کراچی سے اتنے ہی مخلص ہیں تو پھر شہر کے شراب خانوں اور پوش علاقوں میں واقع فحاشی کے اڈوں کو گراکر شہر کو اخلاقی گندگی سے نجات دلائیں، مدارس و مساجد تو شہر کی زینت ہیں، ہل پارک کی مسجد کوئی قبضہ مافیا کا گڑھ نہیں تھا بلکہ ہل پارک سیر و تفریح کیلئے آنے والے مسلمانوں کی نماز کیلئے مسجد بنائی گئی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر راہ نما مسجد سمیت شہید کی جانیوالی تمام مساجد کو ازسرِنو تعمیر کیا جائے، بصورت دیگر خدا کے غضب کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔
خبر کا کوڈ : 773200
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب