0
Friday 25 Jan 2019 16:23

صوبہ پنجاب القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش کے نشانے پر ہے، انٹیلی جنس رپورٹ

صوبہ پنجاب القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش کے نشانے پر ہے، انٹیلی جنس رپورٹ
اسلام ٹائمز۔ انتہائی خطرناک دہشتگرد گروپس پنجاب کو دہشتگردی کیلئے فوکس کئے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صوبے کو ٹارگٹ کرنے کیلئے القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش سرفہرست ہیں۔ دس اضلاع میں انکے سلیپر سیلز اور ایکٹو گروپس سامنے آئے ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ پنجاب انتہائی خطرناک دہشتگرد گروپس کے ریڈار پر ہے، جن میں القاعدہ انڈین سب کاٹینٹ (اے کیو آئی ایس)، ٹی ٹی پی اور داعش سرفہرست ہیں۔ ان دہشتگرد گروپس کے پرائمری ٹارگٹس میں سکیورٹی ادارے، جن میں انٹیلی جنس اور پولیس حکام شامل ہیں، جبکہ مختلف انٹیلی جنس سیٹ اپس کے دفاتر اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے دفاتر، سی پیک سے جڑے پراجیکٹ اور لوگ بھی شامل ہیں۔

پرائمری ٹارگٹس میں سیاسی اشرافیہ کی بڑی شخصیات بھی شامل ہیں۔ سکینڈری ٹارگٹس میں سکیورٹی کے چھوٹے فیلڈ آپریٹوز، متوسط سیاسی قیادت، مذہبی و سیاسی شخصیات اور اجتماعات شامل ہیں۔ ان دہشتگرد گروپس میں سے ٹی ٹی پی دیگر ٹارگٹس بھی سلیکٹ کر سکتی ہے۔ دہشتگرد گروپس کے سلیپر سیلز اور ایکٹو گروپس کی زیادہ تعداد جنوبی پنجاب میں سامنے آئی ہے، جن اضلاع کو خطرناک کیٹیگری میں ڈالا گیا، ان میں بہالپور اور ڈیرہ غازیخان شامل ہیں، جبکہ دیگر کیٹیگریز میں ملتان، رحیم یار خان، لیہ، مظفرگڑھ اور لودھراں شامل ہیں۔ شمالی پنجاب میں خوشاب، سرگودھا، جھنگ، اٹک اور چکوال خطرناک کیٹیگری میں آتے ہیں، جبکہ دیگر کیٹیگریز میں بھکر، میانوالی اور راولپنڈی شامل ہیں۔ وسطی پنجاب میں فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور خطرناک کیٹیگری میں آتے ہیں، جبکہ گجرات اور سیالکوٹ دیگر کیٹیگریز میں شامل ہیں۔

ملک کی ٹاپ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انسداد دہشتگردی آپریشنز کے نتیجہ میں گزشتہ کچھ عرصہ میں 20 دہشتگرد پکڑے جا چکے ہیں، انکو ڈیرہ غازیخان، بہاولپور، خوشاب اور چکوال سے پکڑا گیا، جبکہ چار خطرناک دہشتگرد دو آپریشنز کے نتیجہ میں فیصل آباد اور گوجرانولہ میں مارے گئے۔ پکڑے جانیوالے دہشتگردوں میں عبداﷲ، نیامت رحیم، سلمان رحیم، منصور رحیم، عبدالحمید، عابد رحمان، محمد جنید، عبیداﷲ، محمد عرفان، سجاد، امتیاز، احمد معاویہ، عباس، محمد آصف، محمد وقار، سمیع اﷲ، محمد شیر، شاہ ولی، بلال اور کاشف شامل ہیں۔ ان میں سے 12 کا تعلق ٹی ٹی پی، 6 کا القاعدہ انڈین سب کاٹینٹ اور 2 کا لشکر جھنگوی سے ہے۔ مارے جانیوالے 4 دہشتگردوں کا تعلق داعش سے تھا۔ سب سے زیادہ 10 دہشتگرد جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور سے پکڑے گئے، جبکہ 6 ڈیرہ غازیخان سے پکڑے گئے۔

ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے زیادہ فٹ پرنٹس جنوبی اور شمالی پنجاب میں ملے اور داعش کے وسطی پنجاب میں۔ لشکر جھنگوی کے بچ جانیوالے دہشتگرد پنجاب میں داعش کے سہولت کار ہیں اور ان کیساتھ ملکر کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی میں زیادہ خطرناک گروپ ٹی ٹی پی (سوات) ہو سکتا ہے، جسکے سابق امیر ملا فضل اﷲ کا تعلق سوات تھا اور موجودہ امیر استاد فتح کا تعلق بھی سوات سے ہے۔ ملا فضل اﷲ افغانستان کے علاقہ میں ڈرون حملہ میں ہلاک ہو گیا تھا اور ٹی ٹی پی کا نیا امیر اسکا قریبی بھی تھا، اسلئے سکیورٹی اداروں کا یہ ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی (سوات) ہی بڑی تھریٹ ہو سکتی ہے۔ ایک انٹیلی جنس انفارمیشن کے مطابق ٹی ٹی پی نے جنوری میں لاہور میں انٹیلی جنس اداروں کے سیٹ اپس پر حملے کرنے کیلئے چار دہشتگرد افغان صوبہ کنڑسے پاکستان روانہ کئے تھے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کامیاب آپریشنز کی وجہ سے پنجاب ابھی تک دہشتگردوں کی کارروائیوں سے محفوظ ہے، جبکہ انکے سلیپر سیل اور ایکٹو نیٹ ورکس کو پکڑنے کیلئے آپریشنز جاری ہیں۔
خبر کا کوڈ : 774164
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے