0
Saturday 26 Jan 2019 18:52

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیشرفت کی اطلاعات

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیشرفت کی اطلاعات
اسلام ٹائمز۔ طالبان کے قریبی ذرائع نے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ختم ہونے کی خبر دی ہے۔ دوحہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک ایسے معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سترہ سال سے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کا باعزت انخلا ممکن ہوسکے۔ یہ مذاکرات دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر میں امریکہ کی جانب سے افغان امور کے مشیرِ خاص زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں منعقد ہوئے۔ زلمے خلیل زاد کابل حکومت کو اس اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرنے کے لئے کابل روانہ ہوگئے ہیں۔ موصولہ خبروں کے مطابق اس اجلاس میں طے پایا ہے کہ امریکی فوجی 18 ماہ میں افغانستان سے چلے جائیں اور اِس ملک کی سرزمین کو کسی قسم کی دہشت گردی من جملہ داعش جیسے گروہوں کو دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ معاہدہ کے مطابق طالبان افغان حکومت سے بھی جلد مذاکرات کریں گے۔


قطر میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات چھٹے روز اختتام پذیر ہو گئے۔ افغان میڈیا کے مطابق مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی، معاہدے میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا پر اتفاق کیا گیا۔
 
دیگر ذرائع کے مطابق قطر میں طالبان امریکہ کے درمیان 6 روز سے جاری مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے۔ مذاکرات میں 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے پر معاہدہ طے پا گیا۔ افغان طالبان ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ خطے کے دوسرے ممالک سے تحفظ کی یقین دہانی کروا دیتا ہے تو جنگ بندی ہوسکتی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی کے ليے آئندہ چند روز ميں شيڈول طے کر ليا جائے گا، جنگ بندی کے بعد طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ مذاکرات دوحا میں طالبان کے سیاسی دفتر میں ہو رہے تھے۔ ایک طرف اِن مذاکرات کی سربراہی افغان نژاد زلمے خلیل زاد کر رہے تھے، جن کو امریکہ کی جانب سے افغان امور کے مشیرِ خاص قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر تھے، جو کہ آٹھ سال پاکستان میں قید رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کئے گئے۔

افغان امور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق غیر ملکی فوج کے انخلا کے بارے میں امریکہ شاید اصولی طور پر اتفاق کر لے، تاہم تب تک جنگ بندی ہونے پر بات چیت اہم ہے۔ ادھر امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ ہم نے افغان امن عمل سے متعلق اہم معاملات پر خاطر خواہ پیشرفت حاصل کرلی ہے، لیکن تمام امور پر اتفاق رائے تک کچھ حتمی نہیں ہوگا۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں طالبان سے چھ روزہ مذاکرات کے بعد میں مشاورت کے لئے افغانستان جا رہا ہوں، یہاں پر ملاقاتیں ماضی کی نسبت زیادہ سود مند رہیں اور ہم نے اہم معاملات پر خاطر خواہ پیشرفت کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 774458
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے