0
Monday 11 Feb 2019 12:28

اسپین میں کشمیری حریت پسند مقبول احمد بٹ کی برسی کی تقریب

اسپین میں کشمیری حریت پسند مقبول احمد بٹ کی برسی کی تقریب
اسلام ٹائمز۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اسپین کے زیراہتمام کشمیری حریت پسند مقبول احمد بٹ شہید کی 35ویں برسی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ تلاوت کلام پاک سے برسی کی تقریب کا آغاز کیا گیا، تقریب کی صدارت کشمیری راہنما سردار ماجد نے جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جاوید ملک نے احسن انداز سے انجام دیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری تنویر، جاوید ملک، سردار ارشد، ثاقب طاہر، راجہ سونی، نامدار اقبال خان، سردار ماجد، سردار نجیب الرحمان، محمد افضل، عابد علی اور دوسرے مقررین نے مقبول بٹ شہید اور دوسرے کشمیری شہداء کی طرف سے جان کا نذرانہ پیش کیے جانے کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں کا لہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا اسی لیے کشمیر میں آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا۔ مقررین نے کہا کہ بھارت اپنی آرمی کے ساتھ کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ گرا کر بھی اُن کا آزادی حاصل کرنے کا جذبہ ٹھنڈا نہیں کر سکا ہے۔

چوہدری تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید اسلحے اور ٹینکوں کے سامنے ہاتھوں میں پتھر اُٹھائے نہتے کشمیری تحریک آزادی کو اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں، ہزاروں عصمتیں لٹ گئیں، لاکھوں شہادتیں ہوئیں اور ہزاروں نوجوانوں کو بے گناہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا گیا لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود امن کے ٹھیکیدار ممالک اپنی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں اور بھارت پر زور دیں کہ وہ 71سال سے جاری بربریت اور جارحیت کو فی الفور بند کرے کیونکہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا تب تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

جاوید ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی سے الحاق نہیں بلکہ آزادی چاہتے ہیں، پاکستان کشمیر کے حوالے سے بنائی گئی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا لیکن انہوں نے اس کاز پر کوئی کام نہیں کیا۔ دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان  ویلی کو ہم علیحدہ نہیں ہونے دیں گے بلکہ ہم ان علاقوں کو ایک آزاد ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ کچھ کشمیری اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش میں ہیں لیکن ہم مقبوضہ کشمیر کو 15 اگست 1947ء والی پوزیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کا فیصلہ دہلی میں ہو یا اسلام آباد میں لیکن فیصلے سے پہلے کشمیریوں سے اُن کی رائے ضرور لی جائے۔ تقریب کے اختتام پر شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
خبر کا کوڈ : 777300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب