0
Sunday 17 Feb 2019 15:49
اقتدار میں لانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی حکومت کو ٹشو پیپر کیطرح استعمال کر رہی ہے

پاکستان کو کسی بھی قیمت پر یمن سمیت عالم اسلام کے کسی تنازعہ میں فریق نہیں بننا چاہیئے، عبدالحفیظ بجارانی

جماعت اسلامی پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے
پاکستان کو کسی بھی قیمت پر یمن سمیت عالم اسلام کے کسی تنازعہ میں فریق نہیں بننا چاہیئے، عبدالحفیظ بجارانی
عبدالحفیظ بجارانی جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، اسکے ساتھ ساتھ وہ جماعت اسلامی سندھ کی شوریٰ کے بھی رکن ہیں۔ 1984ء میں انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے تنظیمی فعالیت کا آغاز کیا تھا، وہ جمعیت سکھر کے ناظم بھی رہ چکے ہیں، 1992ء میں انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی، وہ ضلع جیکب آباد کے امیر اور مرکزی شوریٰ کے نو سال رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مسجد قبا گلبرگ کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے دفتر میں انکے ساتھ مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور اسکی کارکردگی کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
سب سے پہلے تو میں اسلام ٹائمز کا مشکور ہوں کہ آپ انٹرویو کیلئے تشریف لائے۔ پی ٹی آئی حکومت کی چھ ماہ کی کارکردگی سوائے دعوؤں، لفاظی، دوسروں پر الزامات لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکی، درحقیقت پی ٹی آئی حکومت عوام کو کچھ بھی ڈلیور نہیں کرسکی، برسراقتدار آنے والی حکومتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرسکیں، لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اسے مہنگائی تلے دبا دیا ہے، کوئی بھی سمجھدار شخص پی ٹی آئی حکومت کو کامیاب قرار نہیں دے سکتا، بہت تیزی سے پی ٹی آئی حکومت کا گراف گر رہا ہے، ان کے سارے تجربے ناکام ثابت ہو رہے ہیں، نئی نسل کو عمران خان سے بہت زیادہ توقع تھی کہ وہ اقتدار میں آکر بڑی مثبت تبدیلی لائیں گے، لیکن نوجوان نسل کے خواب چکنا چور ہوگئے، کیونکہ عمران خان اور انکی جماعت کے سارے دعوے خام خیالی نکلے۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کا مستقبل کیا نظر آرہا ہے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
مجھے تو تحریک انصاف کی حکومت کا کوئی بھی مستقبل نظر نہیں آرہا، تحریک انصاف کی حکومت فقط اسٹیبلشمنٹ کے سہارے چل رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ کا سہارا جس وقت ہٹ جائے، پی ٹی آئی حکومت اگلے دن گر جائے گی، کیونکہ ان کے پاس نہ تو عددی اکثریت ہے اور نہ ہی اخلاقی اکثریت ہے، عوام میں بھی ساکھ کھو چکی ہے، لہٰذا مجھے تو پی ٹی آئی حکومت کا مستقبل ہر لحاظ سے مخدوش نظر آرہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی حکومت کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ لائی ہے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
ہمارے یہاں سول اسٹیبلشمنٹ ختم ہوچکی ہے، اب صرف ایک ہی اسٹیبلشمنٹ ہے، جس سے سب واقف ہیں، اس کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت نہیں، یہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں تجربے پر تجربات کر رہی ہے، کبھی نواز شریف کی صورت میں، کبھی آصف زرداری کی صورت میں، کبھی عمران خان کی صورت میں، اسٹیبلشمنٹ کے یہ سارے تجربے ناکام ثابت ہوچکے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ملک میں اپوزیشن کا کردار کیا نظر آتا ہے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی تقسیم کا شکار بھی ہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت انتہائی کم ہوچکی ہے، ان دونوں جماعتوں میں اتنی سکت ہی نہیں کہ کوئی مثبت تحریک شروع کرسکیں، ان کی پوری کوشش اپنی کرپشن چھپانے میں لگی ہوئی ہے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ صورتحال میں ملک میں بہتری کی امید ہے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
جب تک پاکستان میں انتخابی نظام صاف، شفاف اور منصفانہ نہیں ہوگا، عوام کی حقیقی نمائندہ قیادت منتخب ہوکر اقتدار میں نہیں آئے گی، ملک میں بہتری کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے جماعت اسلامی کی پالیسی کیا ہے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
جماعت اسلامی پی ٹی آئی حکومت کو موقع دینا چاہتی ہے، جماعت اسلامی وفاقی حکومت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں چاہتی، پی ٹی آئی حکومت کیلئے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتی، تاکہ کل کو پی ٹی آئی حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کوئی بہانہ تلاش نہ کرسکے کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمیں موقع نہیں دیا گیا۔ جماعت اسلامی پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ہم تحریک انصاف کو سیاسی شہید بننے کا موقع نہیں دینا چاہتے۔

اسلام ٹائمز: سندھ میں پیپلز پارٹی کا مسلسل تیسرا دورِ حکومت ہے، اسکی کارکردگی کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ بدقسمتی سے ملک میں انتخابی نظام شفاف نہیں ہے، میں یقین سے کہتا ہوں کہ جب بھی پاکستان میں شفاف و منصفانہ انتخابات ہوئے، تو سندھ میں آپ کو پیپلز پارٹی نظر نہیں آئے گی، اسٹیبلشمنٹ نے دیکھ لیا کہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے ہم ایم ایم اے کو ہروا رہے ہیں، پنجاب میں ہم نواز شریف کو سائیڈ لائن کر رہے ہیں، تو کم از کم سندھ میں ہم ایسا ماحول نہ بنائیں کہ بغاوت پیدا ہو جائے، اسٹیبلشمنٹ ڈرتی ہے اس بات سے، لہٰذا اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی کو خوش و راضی رکھنے کیلئے انہیں سندھ میں دوبارہ حکومت کرنے کا موقع دیا ہے، ورنہ سندھ کی عوام کے اندر پیپلز پارٹی کیلئے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے، یہاں آزاد ڈیموکریسی کا تصور نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم پر فعال نظر نہیں آرہی، کیا کہنا چاہیں گے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
ایم ایم اے انتخابی پلیٹ فارم تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ انتخابات میں دینی ووٹ تقسیم کا شکار نہ ہو، آئندہ انتخابات میں ایم ایم اے کا پلیٹ فارم نہ بھی ہو تو ہماری کوشش ہوگی کہ دینی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں، انتخابی ایڈجسٹمنٹ کریں، دینی جماعتیں ہماری پہلی ترجیح ہیں، یہ ہماری فطری اتحادی ہیں، لہٰذا ایم ایم اے ایک انتخابی پلیٹ فارم تھا، اسے مستقل تنظیم کی طرح چلانا ہمارا مقصد نہیں تھا۔ جماعت اسلامی کی شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ جب بھی انتخابات ہونگے، جماعت اسلامی اپنے انتخابی نشان اور جھنڈے تلے لڑینگے، لیکن دینی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے، ان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرینگے۔

اسلام ٹائمز: ملی یکجہتی کونسل کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
ملی یکجہتی کونسل ملک بھر میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے، مذہبی رواداری قائم رکھنے کیلئے، مذہبی انتشار کو ختم کرنے کیلئے بنائی گئی ہے، الحمد اللہ اس حوالے سے کونسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے، ملی یکجہتی کونسل کی وجہ سے فرقہ واریت پھیلانے کی اندرونی و بیرونی سازشیں ختم ہوگئیں۔

اسلام ٹائمز: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اچھی بات ہے، سعودی عرب سے ہمارا دینی رشتہ ہے، پی ٹی آئی حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ اس دورہ سے اربوں ڈالرز کے بڑے بڑے معاشی و اقتصادی معاہدے ہونگے، پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکلنے کا موقع ملے گا۔

اسلام ٹائمز: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ایک تاثر یہ بھی دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو یمن سعودی جنگ میں فریق بنایا جاسکے، کیا کہنا چاہیں گے اس حوالے سے۔؟
عبدالحفیظ بجارانی:
یمن سعودی تنازعہ سمیت عالم اسلام میں جتنے بھی تنازعات ہیں، اس حوالے سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے، پاکستان کو عالم اسلام میں دوریاں ختم کروانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیئے، پاکستان کو کسی بھی قیمت پر یمن سمیت عالم اسلام میں کسی بھی تنازعہ میں فریق نہیں بننا چاہیئے، یمنی بھی ہمارے دوست ہیں، انہیں بھی سمجھانا چاہیئے کہ جنگ سے کسی کا بھی فائدہ نہیں ہونے والا۔ امریکا، اسرائیل سمیت تمام اسلام دشمن ممالک کی کوشش ہے کہ مسلم امہ کو تقسیم در تقسیم کیا جائے، شیعہ میں، سنی میں، وہابی غیر وہابی میں، وہ مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی بیداری سے خائف ہیں، اسی لئے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کو سعودی ولی عہد سے صلح کی بات کرنی چاہیئے، امن و امان کی بات کرنی چاہیئے، قتال، فساد اور جنگ کی بات نہیں کرنی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 778529
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب