0
Wednesday 20 Feb 2019 00:39

پاکستان اور بھارت ضبط و تحمل کیساتھ تصفیہ طلب امور مذاکرات سے حل کریں، چین

پاکستان اور بھارت ضبط و تحمل کیساتھ تصفیہ طلب امور مذاکرات سے حل کریں، چین
اسلام ٹائمز۔ پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے متعلق پالیسی بیان میں چین نے پاکستان اور بھارت سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تمام تصفیہ طلب امور کے حل کے لئے مذاکرات کے آغاز پر زور دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چنگ شوانگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جنوبی ایشیاء کے اہم ممالک ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام علاقائی امن، استحکام اور ترقی کیلئے ضروری ہے۔ ترجمان چینی دفتر خارجہ نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں صورتحال عمومی طور پر مستحکم ہے، یہ صورتحال مشکل سے بنائی گئی ہے اور اسے برقرار رکھنا تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ چنگ شوانگ نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام تصفیہ طلب امور کے حل کیلئے مذاکرات کا جلد از جلد آغاز کریں گے۔

پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کو خوشی ہے کہ پاکستان سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ تبادلوں اور تعاون کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا پائلٹ پراجیکٹ ہے، چین باہمی استفادہ کیلئے مشاورت اور تعاون میں پُرعزم ہے۔ چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ سال چین کے اسٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کادورہ کیا، اس دورے کے دوران چین اور پاکستان نے راہداری کی تعمیر میں تیسرے فریق کی شرکت پر اتفاق کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ راہداری سے نہ صرف چین اور پاکستان کے عوام کو فائدہ پہنچے، بلکہ علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ ترقی کے مشترکہ ہدف کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کی بنیاد پر تیسرے فریق کے تعاون کیلئے تیار ہے۔
خبر کا کوڈ : 778899
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب