0
Saturday 23 Feb 2019 15:07

تھوڑی سی کوشش کرکے اسرائیل کیساتھ تعلقات ٹھیک کئے جاسکتے ہیں، پرویز مشرف کی ہرزہ سرائی

تھوڑی سی کوشش کرکے اسرائیل کیساتھ تعلقات ٹھیک کئے جاسکتے ہیں، پرویز مشرف کی ہرزہ سرائی
اسلام ٹائمز۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ، سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے دبئی میں میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تھوڑی سی کوشش کرکے اسرائیل کیساتھ تعلقات کو ٹھیک کرسکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ صہیونی ریاست پاکستان کو مسلمانوں کی ایٹمی قوت خیال کرتی اور اپنے لیے خطرہ محسوس کرتی ہے، جس وجہ سے یمارے درمیان دوری ہے، میں نے اپنے دور صدارت میں ایک تیسرے ملک سے یہ کہا کہ ہمارے وزیر خارجہ سے ترکی میں اسرائیلی حکام سے ملاقات کروا دیں، دوسرے ہی دن اسرائیلی وزیراعظم کا پیغام آیا کہ جب چاہیں، دنیا میں جہاں چاہیں، ہم ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اب بھی کوئی مشکل نہیں ہے، ہمیں بھارت کیساتھ مقابلے کیلئے اسرائیل کیساتھ تعلقات ٹھیک کرنے چاہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان پر 20 ایٹم بم گرا سکتا ہے تو ہمیں بھارت کی مکمل تباہی کے لیے 50 ایٹم بم گرانا ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیک کرسکتا ہے، جبکہ انہیں وہاں کئی جگہوں پر فائدہ ہے، لیکن پاکستان کو اس طرح کے حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کے لیے صافی آرمی کی ضرورت پڑے گی، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ پر بات کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ جوہری جنگ سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ یہ سادہ نہیں ہے۔ پاکستان واپسی سے متعلق سوال پر انکا کہنا تھا کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان نہ جاؤں، میری نظر میں اس وقت پاکستان میں سیاسی ماحول اچھا ہے اور حالات میرے جانے کو سپورٹ کرتے ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پاکستان میرا ملک ہے، لیکن میں بے وقوفوں کی طرح چھلانگیں مار کر نہیں جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مجھے کوئی سنگین بیماری ہے اور میں ہل بھی نہیں سکتا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی آدھی کابینہ تو وہی ہے جو میرے دور حکومت میں تھی۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا کہ ہماری پارٹی ختم نہیں ہوئی بلکہ ری آرگنائز ہو رہی ہے اور ہدایت خیشگی اب پارٹی کے نئے چیئرمین ہوں گے، ہماری جماعت کی موجودہ حکومت کے خاتمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہماری دلچسپی زرداری اور نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی میڈیا نے پاکستان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے خبر دی تھی کہ وہ اسرائیل کیساتھ تعلقات کے حامی ہیں، لیکن شاہ محمود قریشی نے اس کی تردید کی تھی۔ یاد رہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنیکی پالیسی بانی پاکستان نے اصولوں کی روشنی میں طے کی تھی کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے، پاکستان اسے تسلیم نہیں کرسکتا۔
خبر کا کوڈ : 779625
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب