0
Sunday 24 Feb 2019 09:46

جنگ کوئی تفریح نہیں ہے، اے کے دلت کا بھارتی حکومت کو انتباہ

جنگ کوئی تفریح نہیں ہے، اے کے دلت کا بھارتی حکومت کو انتباہ
اسلام ٹائمز۔ بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کوئی تفریح نہیں، اس لئے پاکستان کے خلاف جنگ کے آپشن کے بجائے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اے ایس دلت کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ فوج کو کلی اختیار دے دیا ہے، لیکن یاد رہے کہ اس دور میں جنگ نہایت خطرناک ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جنگ کے علاوہ بھی آپشنز موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھی جنگ کے بادل چھا گئے تھے اور شاید صورتحال زیادہ سنگین تھی لیکن اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اپنے آپشنز پر غور کرنے کی اور اعلٰی حکام کو جنگ کے نتائج پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوںکہ جنگ کوئی تفریح نہیں ہے۔

امرجیت سنگھ دلت کا مزید کہنا تھا کہ 1971ء کے بعد سے کوئی حقیقی جنگ نہیں لڑی گئی اور کرگل ایک محدود آپریشن تھا جو پہاڑی علاقوں میں ہوا اور خوش قسمتی سے زیادہ شہری متاثر نہیں ہوئے۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر لاہور پر بم گرایا گیا یا امرتسر پر بمباری کی گئی یا پھر مظفرآباد پر بم حملہ ہوا تو کیا ہم اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں۔؟ انہوں نے کہا کہ آج کل کے ہتھیار تبدیل ہو چکے ہیں اور یہ 1971ء والے ہتھیار نہیں ہیں۔ امورِ کشمیر کے ماہر اور سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشیر رہنے والے اے ایس دولت کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نے اس سے کہیں زیادہ بری صورتحال کا سامنا کیا تھا، جس میں کرگل آپریشن، پارلیمنٹ پر حملہ اور بھارتی ہوائی جہاز کو اغواء کر کے قندھار لے جانا شامل ہے لیکن انہوں
نے تمام معاملات کو تحمل سے سنبھالا۔

را کے سابق سربراہ نے کانگریس رکنِ اسمبلی نوجوت سدھو کے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوت سدھو جنرل باجوہ سے اسی طرح ملے جس طرح پنجابی ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور یہاں تو دونوں صرف پنجابی بھی نہیں بلکہ ہمارے ایک جٹ سکھ کی دوسرے ملک کے جٹ سے ملاقات تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سدھو اور جنرل باجوہ اسی طرح ملے جس طرح عموماً ملا جاتا ہے اگر اس میں کوئی شرمندگی کا پہلو ہوتا تو وہ جنرل باجوہ کو متاثر کرتا کیونکہ وہ تو وردی میں تھے۔ اے ایس دولت نے کہا کہ جب آپ بات چیت کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں تو مطلب آپ اپنی راہیں محدود کررہے ہیں، جس کی وجہ سے ہم دوبارہ تشدد کا راستہ اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں شاید کوئی سرحدی خلاف ورزی کا معاملہ طاقت اور ہتھیاروں کے استعمال سے حل ہوا ہو۔
خبر کا کوڈ : 779708
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب