0
Friday 1 Mar 2019 15:17

اسرائیلی عدلیہ کیجانب سے نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کرنیکی تیاری مکمل

اسرائیلی عدلیہ کیجانب سے نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کرنیکی تیاری مکمل
اسلام ٹائمز۔ صیہونی عدلیہ نے جمعرات کو بعد از ظہر اعلان کیا کہ اٹارنی جنرل آویخائی منڈلبیٹ تین مقدمات میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کرینگے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق نیتن یاہو پر  رشوت گیری، امانت میں خیانت اور دھوکہ دہی کے تین مقدمات میں فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔ پچھلے ماہ نیتن یاہو کی کرپش کی خبریں میڈیا پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چل رہی تھیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر دائر یہ مقدمات "1000"، "2000"، "3000" اور "4000" کے نام سے معروف ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اب تک تقریبا 12 مرتبہ پولیس کی تفتیشی ٹیم کے ان مقدمات کے ساتھ ساتھ اپنی اہلیہ کی کرپش کے مقدمات کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھی دیئے ہیں۔ نیتن یاہو پر مقدمہ نمبر "1000" میں یہودی سرمایہ کاروں کی طرف سے تقریباً تین لاکھ ڈالر رقم کی رشوت کو تحفے کے طور پر قبول کرنے کا الزام ہے۔ مقدمہ نمبر "2000" میں بھی اسرائیلی وزیراعظم پر معروف اخبار "یدیعوت اہارونوت" کے مالک "ارنون موزس" کے ساتھ ملی بھگت کا الزام ہے، جس کو وزیراعظم کی مثبت کوریج دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ اس کے رقیب ایک اور پرائیویٹ اخبار "اسرائیل ہیوم" (اسرائیل ٹوڈے) کو حکومت کی جانب سے دباؤ میں لیا جانا تھا۔

سب سے زیادہ دھواں دھار، مقدمہ نمبر "3000" ہے، جو جرمنی سے 3 آبدوزوں کی خریداری سے متعلق ہے۔ یہ مقدمہ تب 2016ء میں سب کی توجہ کا مرکز بنا، جب کینسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے بعض نمائندوں نے بھی اسرائیلی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر نیتن یاہو کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا تھا۔ مقدمہ نمبر "4000" بھی اسرائیلی وزیراعظم کے "بزک" کمپنی کے مالک، جو "واللا" نیوز ایجنسی کا بھی مالک ہے، کے ساتھ ساز باز کے متعلق ہے۔ ایک اسرائیلی عدالتی رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں ان پر بڑے پیمانے پر کی گئی کرپش کا الزام ہے۔ اس مقدمے میں نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے مالی سہولیات کی مد میں کئی ملین ڈالر اس کمپنی کے مالک "شاؤل الویچ" کو دلوائے، تاکہ وہ اپنی اخبار میں وزیراعظم اور ان کے گھر والوں کی حمایت میں خبریں لگائیں۔ نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کرنے کی خبریں حال ہی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے چند ہی دنوں بعد سامنے آرہی ہیں، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں لیکوڈ پارئی کا نیتن یاہو کی سربراہی میں انتخابات جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔ یاد رہے کہ 24 دسمبر 2018ء کو نیتن یاہو کی حلیف پارلیمانی کابینہ کے ٹوٹ جانے کے بعد اب 9 اپریل 2019ء کو اپنی مقررہ مدت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 780743
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے