0
Saturday 2 Mar 2019 09:37

برطانیہ یمن کی جنگ میں حملہ آور قوتوں کیساتھ برابر کا شریک ہے، محمد علی الحوثی

برطانیہ یمن کی جنگ میں حملہ آور قوتوں کیساتھ برابر کا شریک ہے، محمد علی الحوثی
اسلام ٹائمز۔ انقلاب کمیٹی یمن کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کل رات برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کی جانب سے الحدیدہ امن معاہدے کے حوالے سے کی گئی گفتگو کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہنٹ کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیئے کہ ہماری عوام جانتی ہے کہ برطانیہ یمن پر ہونے والی جارحیت میں برابر کا شریک ہے۔ المیسرہ یمن کی ویب سایٹ کے مطابق انقلاب کمیٹی یمن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہنٹ کا بیان یمن پر حملہ آور ممالک، جنہوں نے معصوم یمنی عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا اور انہیں بھوک میں مبتلا کر رکھا ہے، دنیا کو ان جارحین کا خوبصورت چہرہ دکھانے کے غرض سے جاری کیا گیا ہے۔ محمد علی الحوثی نے کہا کہ برطانوی منصوبے عدالت برقرار کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ سلامتی کونسل میں مذموم امریکی و اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل کی غرض سے تیار کئے جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانوی اقدامات نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار ثالث نہیں ہے۔ انقلاب کمیٹی یمن کے سربراہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ انقلاب یمن کے سربراہ کی جانب سے یمنی افواج کے یک طرفہ انخلاء کی پیشکش کے بعد ساری دنیا کے لئے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ کون ہیں، جو امن کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ جو ان دنوں عمان کے دورے پر ہیں، انہوں نے جمعہ کے دن حوثیوں کی عوامی تحریک انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام سے سٹالکھام معاہدے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ اسی دوران جیرمی ہنٹ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ انصاراللہ کی فورسز الحدیدہ بندرگاہ کو خالی کر دیں۔ یاد رہے کہ انصاراللہ اور یمن کی مستعفی حکومت کے نمائندے، پانچ ماہ قبل سویڈن کے شہر سٹالکھام میں یو این او کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں الحدیدہ شہر و بندرگاہ اور الصلیف و عین عیسیٰ بنادر میں سیز فائر پر متفق ہوچکے ہیں۔ دراین اثناء انصار اللہ کا موقف ہے کہ عربی اتحاد سٹالکھام معاہدے کی پابندی نہیں کر رہا اور اس حوالے سے امن کے قیام میں روڑے اٹکا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اب تک یمن کی جنگ کو روکنے کے لئے بارہا کوششیں کی جا چکی ہیں، لیکن ہر بار یہ کوششیں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تعاون نہ کرنے وجہ سے ناکام ہوئی ہیں۔ سعودی عرب نے 26 مارچ 2015ء کو چند دیگر عرب ممالک کے اتحاد اور امریکی حمایت و گرین سگنل کے ساتھ غریب ترین عرب ملک یمن پر بڑے پیمانے پر حملات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، تاکہ یمن کے سابق مستعفی صدر کو اقتدار پر بحال کرنے کے بہانے اپنی سیاسی ہوس کی تسکین اور دیگر مذموم مقاصد کی تکمیل کرسکے۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر ہونے والے جارحانہ حملوں سے اب تک پورے ملک کے انفراسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ ساتھ 16000 سے زیادہ بیگناہ یمنی بھی مارے جا چکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 780952
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب