0
Tuesday 5 Mar 2019 10:27

ایران شام میں موجود رہیگا اور ہم بھی اپنی موجودگی باقی رکھیں گے، پیوٹن کا نیتن یاہو کو جواب

ایران شام میں موجود رہیگا اور ہم بھی اپنی موجودگی باقی رکھیں گے، پیوٹن کا نیتن یاہو کو جواب
اسلام ٹائمز صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوموار کے روز اپنی کابینہ کی ہفتہ وار میٹنگ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام سے بیرونی افواج کے انخلاء کے بارے میں مجھ سے اتفاق کیا ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد کی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کے فوراً بعد ہی بین الاقوامی سطح پر شام کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی بحث و تکرار میں شدت آگئی۔ یاد رہے کہ بشار الاسد کا ایران کا دورہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ روس سے چند روز قبل انجام پایا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے سوموار کے روز اپنی کابینہ کی ہفتہ وار میٹنگ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام سے بیرونی افواج کے انخلاء مسئلہ پر مجھ سے اتفاق کیا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے پچھلے ہفتے ماسکو میں صدر پیوٹن سے ملاقات کی اور جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا، ہماری بات چیت کا محور ایران ہی رہا۔ میں نے اس ملاقات میں یہ واضح کر دیا کہ اسرائیل اس سے بڑھ کر شام میں ایران کی عسکری موجودگی برداشت نہیں کرے گا اور اسی طرح میں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی جاری رکھیں گے۔ ہم نے روسی فوج کی سکیورٹی سرگرمیوں کے دوران اس کے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کے بارے میں بھی اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے۔ اسی طرح صدر پیوٹن اور میرے درمیان ایک اور مشترکہ ہدف پر بھی اتفاق رائے حاصل ہوگیا ہے اور وہ شام میں خانہ جنگی کے دوران آنے والی بیرونی افواج کی عقب نشینی ہے۔ ہمارے درمیان اس ہدف اور دوسرے مقاصد تک پہنچنے کے لئے ایک مشترکہ ٹیم کی تشکیل پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے۔

صیہونی وزیراعظم کے اس دعوے کے ساتھ ہی ایک اسرائیلی ویب سائٹ یروشلم پوسٹ نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیلی جاسوس ایجنسیاں کہتی ہیں کہ شام کی فوج نے ایرانی اور لبنانی کمانڈرز کو گولان کی سرحد کے قریب آنے کی اجازت دے رکھی ہے اور یہ اسرائیل کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ یروشلم پوسٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے ڈویژن پانچ (Division 5) کے نام سے ایرانی کمانڈرز، حزب اللہ اور حشد الشعبی کے ممبرز اور جزریل کے علاقے میں موجود افغان ملیشیا پر مشتمل ایک یونٹ بھی گولان کے علاقے میں تشکیل دیا ہے، جو علاقے میں ہونے والی اسرائیل کی تمام تر فوجی نقل و حرکت کو اپنی نظروں میں رکھے ہوئے ہے، جبکہ جنرل قاسم سلیمانی کی کمان میں لڑنے والی ایرانی افواج و شیعہ عسکری گروہوں نے گولان کے آس پاس کے تمام علاقے دہشتگردوں سے خالی کروا لئے ہیں اور اب ان علاقوں میں ان کا اپنا کنٹرول ہے۔

دوسری طرف شامی ذرائع کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے اس ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح الفاظ میں یہ بتا دیا تھا کہ ماسکو کے پاس ایسا کوئی آلہ نہیں جسے استعمال کرتے ہوئے وہ ایران کو شام سے نکال باہر کرسکے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ہیرالڈ ٹرائبیون کی رپورٹ کے مطابق یہ صدر پیوٹن سے اسرائیلی وزیراعظم کی گیارہویں اور انتہائی اہم ملاقات تھی، جبکہ اس ملاقات میں اسرائیل کے اہم ملاقاتی نے اپنے میزبان سے واضح الفاظ میں یہ سن لیا کہ "ماسکو شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا اور اس کے پاس ایسا کوئی پریشر پوائنٹ نہیں جس کی بنا پر وہ ایران سے مطالبہ کرے کہ ایران شام سے چلا جائے یا ایران دمشق کو اسلحہ مہیا کرنا بند کر دے اور یہ کہ ایران بھی شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا اور روس شام کے ایران کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔"

شام کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسکو نے تل ابیب کو اس بات سے بھی مطلع کر دیا ہے کہ "دمشق اس بات پر مصمم ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ہر حملے کا بھرپور جواب دے گا اور اس حوالے سے روس بھی کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔" شام کے ذرائع کے مطابق صدر بشار الاسد کا چند گھنٹوں پر مشتمل یہ مختصر دورہ کافی تھا کہ ہر فریق اپنے حصے کا پیغام سمجھ لے۔ سب سے پہلا پیغام تو اس واقعیت پر مبنی تھا کہ تہران کا یہ دورہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے روس کے طے شدہ دورے سے پہلے انجام دیا گیا، دوسرا پیغام اس بات کا اظہار تھا کہ شام اور ایران کے درمیان مستحکم دوستانہ تعلقات قائم ہیں، جو کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت، چاہے امریکہ کی ہو یا روس کی، سے متاثر نہیں ہوتے، شام حاکمیت کا مکمل حق رکھتا اور جسے چاہے اپنا سٹریٹجک پارٹنر منتخب کرسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بشار الاسد کا یہ خفیہ دورہ، جس کی روس کو بھی کوئی خبر نہ تھی، دراصل شام کے ایران سے انتہائی گہرے تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 781500
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب