0
Wednesday 6 Mar 2019 10:33

قرآن کریم کے غلط ترجمے کا معاملہ، ہائیکورٹ نے کارروائی کا حکم دیدیا

قرآن کریم کے غلط ترجمے کا معاملہ، ہائیکورٹ نے کارروائی کا حکم  دیدیا
اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرآن ایکٹ پر من و عن عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب کو قرآن پاک کا غلط ترجمہ کرنیوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کر دی۔ جسٹس شجاعت علی خان نے یہ حکم شہری محمد حسن کی درخواست پر جاری کیا۔ عدالتی حکم پر آئی جی پولیس پنجاب، سپیشل سیکرٹری ہوم، چیئرمین قرآن بورڈ پنجاب، ڈی جی اوقاف اور دیگر افسران لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔ درخواستگزار کا موقف تھا کہ قادیانیوں کا ایک گروہ قرآن پاک کے غلط ترجمے میں ملوث ہے جو چنیوٹ میں قادیانیوں کی جانب سے قرآن پاک کا غلط ترجمہ کر رہا ہے جبکہ افسران کو اطلاع دینے کے باوجود کارروائی نہیں ہو رہی، عدالت سے استدعا ہے کہ عدالت ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا حکم دے۔

درخواستگزار نے متعلقہ نمونے بھی عدالت کے روبرو پیش کئے۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ رنگ نسل اور تعصب سے بالاتر ہو کر قرآن ایکٹ پر عملدرآمد کیا جائے ہم سب پاکستان کے شہری ہیں مگر قانون پر عملدرآمد ہر شہری پر فرض ہے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب پولیس فورس کے سربراہ ہیں، اس معاملے کو خصوصی طور پر دیکھیں، ہماری کسی کیساتھ ذاتی رنجش نہیں، بس قانون پر عمل ہونا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قرآن ایکٹ قرآن رولز کے تحت کارروائی بنتی ہے تو قانون حرکت میں آئے۔ عدالت نے ڈی جی اوقاف سے استفسار کیا کہ آپ پر تو الزام ہے کہ آپ تعاون نہیں کرتے، جس پر ڈی جی اوقاف نے کہا کہ یہ الزام اور تاثر بالکل غلط ہے، محکمہ اوقاف اپنی ذمہ دارایاں پوری کر رہا ہے۔ عدالت نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو قرآن ایکٹ پر عملدر آمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
خبر کا کوڈ : 781640
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے