0
Saturday 9 Mar 2019 01:34

بیوروکریسی کی ازسرنو تشکیل کی ضرورت ہے، ندیم افضل چن

بیوروکریسی کی ازسرنو تشکیل کی ضرورت ہے، ندیم افضل چن
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ اشرافیہ کا احتساب ایک انقلابی کام ہے، جو صرف وزیراعظم نہیں کرسکتے، اس کے لیے عدلیہ اور بیوروکریسی سمیت تمام اداروں کو متحرک ہونا پڑے گا۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو چھوڑنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم سندھ میں بدعنوانی کے خلاف بات کرتے تھے تو بلاول خاموش ہو جاتے تھے، کیونکہ وہ بےبس تھے، سندھ میں کوئی اور حکومت کرتا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی تبدیل کرنے کو اچھا اقدام نہیں سمجھتا، مجھے مشرف کے دور میں وفاداریاں بدلنے کے بہت مواقع ملے، لیکن ہم نے بےنظیر کو چھوڑنے سے انکار کر دیا، جب قیادت اپنے راستے سے ہٹتی ہے تو اسے پالیسی میں تبدیلی کہا جاتا ہے اور اگر ہم جیسے کارکن جماعت تبدیل کریں تو انہیں لوٹا کہہ دیا جاتا ہے۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ آج سیاسی کارکن کی جگہ سرمایہ دار نے سنبھال لی ہے۔ کارکن بس مار کھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جن لوگوں کے خلاف جماعت بنائی تھی، آج وہی طبقہ پیپلزپارٹی پر قابض ہے۔ قیادت اور کارکن کے تعلق کے حوالے سے ان کی رائے تھی کہ سیاسی قیادت کو کارکنوں کے ساتھ روابط برقرار رکھنے چاہئیں۔ آج خواتین کا عالمی دن تھا، تمام جماعتوں کے قائدین کو اپنی خواتین ورکرز کو بلا کر ان سے ملاقاتیں کرنا چاہئیں تھیں۔ شہباز شریف کے طرز حکمرانی کے بارے میں ندیم فضل چن کا کہنا تھا کہ  انہوں نے سیاسی لوگوں کے بجائے بیوروکریسی کے ذریعے حکومت کی اور ایسے لوگ منتخب کیے، جو ریاست سے زیادہ ان کے ذاتی وفادار تھے، اس وجہ سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ زراعت شہباز شریف کی ترجیحات میں شامل نہیں تھی، اس وقت ہم گندم کے اسٹاک پر 35 ارب روپیہ سود دے رہے ہیں کیونکہ حکومت کے پاس گندم ذخیرہ کرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ نوازشریف کے علاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے قریبی لوگ صحت پر سیاست کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے جس اسپتال میں چاہیں علاج کرا سکتے ہیں، البتہ باہر جانے کی اجازت صرف عدلیہ دے سکتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم عدلیہ کے نظام میں ابھی بہتری نہیں دے سکے، بیوروکریسی کی بےوجہ رکاوٹوں کی وجہ سے بے گھروں کو گھر دینے کا پراجیکٹ بھی تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔

ترجمان عمران خان نے بتایا کہ عام آدمی کو فوری انصاف دینے کے لیے قانون سازی میں دیر ہو رہی ہے، بیوروکریسی کی ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ پولیس کی اصلاح کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پولیس نہ ہی مجسٹریٹ کے نیچے ہونی چاہیئے اور نہ ہی سیاست دان کی ماتحت، اس ادارے کو نئے سرے سے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اکثریت نہیں ملی، مخلوط حکومت کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف کے بہت سے لوگ عمران خان کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں لیکن اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 782177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے