0
Tuesday 12 Mar 2019 17:22

اہلیہ سمیت چار افراد کے قتل کا مجرم ثبوتوں کی عدم دستیابی کیوجہ سے سپریم کورٹ سے بری

اہلیہ سمیت چار افراد کے قتل کا مجرم ثبوتوں کی عدم دستیابی کیوجہ سے سپریم کورٹ سے بری
اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ نے اہلیہ اور اس کے مبینہ آشنا سمیت 4 افراد کے قتل کے الزام میں سزائے موت کے مجرم کو بری کردیا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مجرم احسان اللہ کی اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مجرم نے طیش میں آکر اپنی اہلیہ، اس کے مبینہ آشنا سمیت 4 افراد کو قتل کیا تھا اور مجرم کے خلاف اہلیہ، اس کے 4 افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ دوسری جانب اپیل کنندہ کے وکیل ذکا الرحمٰن ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مجرم اعتراف جرم کرچکا لیکن پروسیکیوشن مجرم کے خلاف شواہد اور گواہان پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، اور ساتھ ہی استدعا کی کہ جرم ثابت کرنا پروسیکیوشن کا کام ہے اس لیے ان کے موکل کو بری کیا جائے۔

عدالت نے احسان اللہ کو ثبوتوں اور شواہد کی عدم دستیابی پر بری کردیا۔ خیال رہے کہ سرگودھا کی مقامی عدالت نے ملزم کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا اور ہائیکورٹ نے سزا برقرار رکھی تھی، جس کے خلاف مجرم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس سے قبل 12 فروری 2019ء کو سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں عمر قید کا سامنا کرنے والے ملزم اسفند یار کو جرم ثابت نہ ہونے پر 10سال بعد بری کردیا تھا۔ 4 مارچ 2019ء کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جھوٹی گواہی سے متعلق مزید ایک کیس میں عدالت نے گواہوں کے بیانات میں تضاد پر 12 سال بعد 2 ملزمان کو بری کردیا تھا۔ یکم مارچ کو سپریم کورٹ نے 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کردیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 782892
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب