0
Sunday 17 Mar 2019 13:49

تنظیم اتحادِامت نے "انٹرنیشنل چارٹر آف پیس اینڈ ہارمنی" تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا

تنظیم اتحادِامت نے "انٹرنیشنل چارٹر آف پیس اینڈ ہارمنی" تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین تنظیم اتحاد امت پاکستان اور کوآرڈینیٹر متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب محمد ضیاءالحق نقشبندی نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نفرت عدم برداشت ناقابل علاج مرض ہے اس کیلئے عالمی سطح پر صرف مسلمانوں کیخلاف نہیں غیر مسلم دہشتگردوں کیخلاف بھی قانون سازی ہونی چاہیے، دنیا کے تمام مذاہب اور انسانی حقوق کے رہنما ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے "انٹرنیشنل چارٹر آف پیس اینڈ ہارمنی" تشکیل دیں، کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ پر حملہ کی صورت میں الگ سے سخت قوانین اورعبرتناک سزاﺅں کا بین الاقوامی نفاذ عمل میں لائیں، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی جانب سے اس بات کو خوش آئند قرار دیتے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ مرنے والے ہمارے ہیں مارنے والے ہمارے نہیں ہیں، بریلی شریف سے فارغ التحصیل ہندوستان کے عالم دین جو تبلیغی دورے پر نیوزی لینڈ آئے تھے وہ بھی اس واقعہ میں شہید ہوئے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترک وزیراعظم طیب اردگان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس واقعہ کے سب سے پہلے مذمت کی، وزیر اعظم پاکستان عمران خان سانحہ نیوزی لینڈ کیخلاف او آئی سی کو فوری طور پر احتجاجی مراسلہ جاری کریں اور دفتر خارجہ فوری طور پر نیوزی لینڈ سفیر سے اس واقعہ کے حوالے سے معلومات لیکر میڈیا کو اعتماد میں لیں، پاکستان میں موجود نفرت کا کاروبار کرنیوالوں کو کہوں گا کہ دہشتگرد نے مساجد میں سنی، دیوبندی، وہابی، شیعہ، شافعی، مالکی، حنبلی دیکھ کر حملہ نہیں کیا بلکہ مسلمان سمجھ کر حملہ کیا ہے، خواتین کے حقوق کے نام پر خواتین کی ہی پامالی کرنیوالا، موم بتی مافیا آج خاموش کیوں ہے؟ اسلامو فوبیا کے مرض میں مبتلا افراد کی زبانوں پر چھالے کیوں پڑ گئے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ مغرب و یورپ جو بار بار کہتے ہیں اپنا نصاب تبدیل کرو، اپنے 28 سالہ شہری جس نے انتہا پسندی کی تمام حدوں کو پامال کرتے ہوئے، فیس بک پر لائیو ساری بیہودگی چلائی یہ کون سا نصاب پڑھا تھا۔ فرانس میں دہشتگردی میں17 لوگ مارے گے تھے، تو 40 ممالک کے سربراہان نے پیرس میں جمع ہو کر جلوس نکالا تھا، لیکن 49 مسلمانوں کی شہادت کیلئے کسی ملک کے سربراہ کی جانب سے آگے بڑھ کر شہداء کیساتھ کھڑے ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک انڈیا کی صورتحال کی بات کی جائے تو مودی کو الیکشن میں کامیابی کیلئے ہندو ذہنیت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم ہندو برداری سے بھی کہیں گے کہ وہ اس بار امن کے دشمن مودی کو الیکشن میں ووٹ نہ دیں جبکہ 22 کروڑ عوام پاک فوج کیساتھ اگلے مورچوں پر جہاد کیلئے تیار ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی واپسی کیلئے جو کوششیں حکومتی سطح پر کوشش کی جا رہی ہے، ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ عافیہ صدیقی کو جلداز جلد ان کے خاندان سے ملائیں۔ پریس کانفرنس میں حافظ امیر علی اعوان، نگران شریعہ بورڈ تنظیم اتحاد امت مفتی ابوبکر اعوان ایڈووکیٹ، مفتی محمد قیصر شہزاد نعیمی، قاری غلام حسین نقشبندی، پیر سید تنویر حسین، سید توقیر شاہ، مفتی شاہد مدنی، مفتی ابوبکر قریشی، سید زبیر شاہ، علامہ تنویر اقبال اور دیگر بھی شریک تھے۔
خبر کا کوڈ : 783779
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب