0
Monday 18 Mar 2019 11:06

پاکستان اور ایران کے ٹاپ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کا فیصلہ

پاکستان اور ایران کے ٹاپ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کا فیصلہ
اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور ایران کے ٹاپ انٹیلی جنس اداروں کے سینئر افسروں کے درمیان جلد ملاقات ہونے جا رہی ہے، دو مسلم اور برادر ہمسایہ ملکوں کے پرائمری خفیہ اداروں کے افسروں کے درمیان ملاقات کیلئے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران کے پرنسپل اور پرائمری انٹیلی جنس اداروں کے سینئر افسران کے درمیان ملاقات ہونے جا رہی ہے جس کیلئے تیاریاں ہو رہی ہیں، ملاقات کے ایجنڈے میں کاونٹر ٹیررازم اور بارڈر منیجمنٹ کا معاملہ زیر غور آئے گا۔ بات چیت کرنے کیلئے ورکنگ پیپرز کی تیاری کر رہے ہیں جس کا مقصد دونوں سائیڈ کی ٹیمز کا اپنے ایشوز ایک دوسرے کے سامنے رکھنا، درست اطلاعات کی بنیاد پر غلط فہمیاں دور کرنا اور ایشوز کے ممکنہ حل کیلئے مشترکہ کوششوں کے حوالے سے بریف کرنا شامل ہوگا۔
 
ہمسایہ مسلم ممالک کے مختلف انٹیلی جنس ادارے جو کسی صورت میں بھی کاونٹر ٹیرئیرازم اور بارڈر منیجمنٹ کے معاملات سے جڑے ہیں کی معلومات بھی ورکنگ پیپرز کی تیاری میں شامل کی جائیں گی، تاکہ ایشوز کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنے کیلئے تیزی سے آگے بڑھا جا سکے، ٹاپ سکیورٹی آفیشلز نے بیک گروانڈ انٹریوز میں اس نمائندے کو بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان انٹرنیشنل بارڈر جسے گولڈ سمتھ لائن کہا جاتا ہے کی زیرو لائن کے ایریاز میں بلوچ قبائل آباد ہیں جن کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں، ان قبائل میں کچھ عناصر دہشتگرد گروپس، ہیومن اور ڈرگ سمگلنگ کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث ہیں، یہ عناصر افغان سرزمین سے آپریٹ کرنیوالی بھارتی ایجنسی را اور اسکی پشت پر امریکن سی آئی اے، اسرائیلی موساد اور سب سے بڑھ کے افغان این ڈی ایس کے ایماء پر کئی آپریشن لانچ کرتے ہیں جسکی وجہ سے دو دوست اور ہمسایہ مسلم ملکوں میں غلط فہمیاں اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
 
رپورٹ کے مطابق ان دہشتگرد گروپس میں جیش العدل، داعش، ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی، القاعدہ، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلیکن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ اور ان کیساتھ جڑے ہیومن اور ڈرگ سمگلنگ گینگز سر فہرست ہیں، ان گروپس کے عناصر دونوں ملکوں میں کاروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، یہ گروپس افغان سرزمین کے استعمال کے علاوہ ایرانی بلوچستان سے آپریٹ کرتے ہیں۔ ان کیخلاف پاکستان کے ٹاپ انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے کئی کامیاب کاروائیاں کی گئی جس میں برادر اسلامی ہمسایہ ملک کیلئے خطرہ بننے والے ہائی ویلیو ٹارگٹس کا خاتمہ ممکن ہوا۔ جنداﷲ نامی تنظیم جسے ایران بڑا خطرہ قرار دیتا تھا، کے ٹاپ ٹارگٹس پاکستان کی مدد سے ختم کئے گئے جس میں عبدالمالک ریگی بھی شامل ہے جو اس گروپ کا سربراہ تھا۔
 
حال ہی میں جیش العدل کے ہاتھوں اغوا ہونیوالے ایرانی انقلابی گارڈز اور انٹیلی جنس کے سات سے آٹھ اہلکاروں کی بازیابی بھی پاکستان کی انٹیلی جنس کی وجہ سے ممکن ہو پائی تھی، جنہوں نے پاکستان ایران بارڈر پر ایک کامیاب آپریشن کے ذریعے مغویوں کو صحیح سلامت بازیاب کرایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سائیڈ پر مسائل انتہائی کم ہیں، نان سٹیٹ ایکٹرز کا سٹرانگ ہولڈ افغان صوبہ، قندھار اور ایرانی بلوچستان ہے۔
خبر کا کوڈ : 783865
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے