0
Thursday 28 Mar 2019 09:32

اندرا عبداللہ ایکارڈ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوئی، سجاد لون

اندرا عبداللہ ایکارڈ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوئی، سجاد لون
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس اور عبداللہ خاندان کے دوہرے جملوں پر حملہ کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے کہا کہ پارٹی کے خاندانی حکمران جب اقتدار میں نہیں ہوتے ہیں تو سب سے بڑے علیحدگی پسند ہوتے ہیں اور اقتدرا میں آتے ہی سب سے بڑے ظالم اور جابر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو آرٹیکل 370 میں کی گئی تمام ترمیمات انہیں یاد رہتی ہیں، وہ ہماری خاص شناخت کے بارے میں بات کرتے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سجاد لون نے دعوی کیا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کرنے والی پارٹی لوگوں کو قتل کے حوالے سے نصیحت کر رہی ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ عوام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، آرٹیکل 370 کے ساتھ کی گئی چھیڑ چھاڑ کے بارے میں  لیکچر دیتے ہیں جب کہ خود یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ ساری خلاف ورزیاں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم تاریخ کو کریدنا نہیں چاہتے تاہم جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ کیا ہوا ہے کہ جنہوں نے خصوصی حیثیت کو ختم کیا ہے وہی اب اس حوالے سے لیکچر دیتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کانفرنس ایک ایسی دنیا میں جہاں معلومات آسانی سے دستیاب ہیں، لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتی۔ تاریخی طور پر کم معلوم اور بھلا دئے گئے حقائق کو بیان کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ 1975ء کے اندرا عبداللہ معاہدہ نے ہماری خصوصی حیثیت ختم کر ڈالی اور بیشتر اختیارات دہلی کو دے دئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پھر سے کہتے ہیں کہ سب سے اہم واقعہ جس سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تاریخ بدل گئی نیز دہلی اور سرینگر کے درمیان تعلقات بدل گئے، بیشتر اختیارات دہلی کو دے دئے گئے۔
خبر کا کوڈ : 785558
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے