0
Saturday 30 Mar 2019 16:41

آج ہمیں عراق میں ایران کے بے مثال اثرورسوخ کا سامنا ہے، امریکی وزیر خارجہ کا اعتراف

آج ہمیں عراق میں ایران کے بے مثال اثرورسوخ کا سامنا ہے، امریکی وزیر خارجہ کا اعتراف
اسلام ٹائمز - امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے بدھ کے روز کانگریس کے ایک جلسے میں حاضر ہو کر مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ پمپیو نے اس جلسے میں سعودی صحافی جمال خاشگی کے قتل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے تمام شعبے جمال خاشگی کے قاتلوں کی شناخت اور انہیں کسی بھی عہدے سے بلاتفریق سزا دینے کی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ پمپیو نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انہوں نے جمال خاشگی کے قتل کے دوران ریکارڈ کی گئی آڈیو ابھی تک نہیں سنی، کہا کہ ایک دو دنوں میں جمال خاشگی کے قتل کے بارے میں نئی تحقیقات سامنے آئیں گی۔
 
یاد رہے 59 سالہ صحافی جمال خاشگی کو آخری مرتبہ گزشتہ سال 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتا دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد میڈیا نے پہلے تو جمال خاشگی کی گمشدگی کی خبر دی لیکن ترکی کی حکومت اور بین الاقوامی میڈیا کے دباو پر سعودی حکومت کی 15 نفری ٹیم کے ہاتھوں سعودی قونصل خانے کے اندر جمال خاشگی کے قتل اور ٹکڑے ٹکڑے کئے جانے کی حقیقت کھل کر دنیا کے سامنے آ گئی۔
 
امریکی وزیر خارجہ نے جلسے کے دوران سعودی عرب کی یمن کے خلاف جنگ کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودیوں کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ حوثیوں کے راکٹوں کے جواب میں اپنا دفاع کر سکیں بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے شہروں پر میزائل فائز کئے جانے کے جواب میں دفاع کا حق رکھتے ہیں جبکہ اس مسئلے کی جڑ ایران ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج واشنگٹن پرانی ساری حکومتوں کے مقابلے میں عراق کے اندر ایران کے پوری تاریخ میں سب سے زیادہ اثرورسوخ سے دوچار ہے۔
 
یاد رہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب اتحاد کی جنگ 26 مارچ 2015ء سے شروع ہے۔ اس خوفناک جنگ نے جو امریکہ، فرانس، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور سوڈان وغیرہ جیسے دوسرے ممالک کی سیاسی اور مسلح حمایت کے ساتھ جاری ہے، آج تک 50,000 سے زائد بےگناہ یمنیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ گزشتہ سال 3 اگست کو چھپنے والی واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر میں جنگوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد پر تحقیق کرنے والے ایک آزاد ادارے ACLED کی رپورٹ کے مطابق یمن جنگ میں تب کم از کم 50 ہزار افراد کے جانبحق ہونے کی خبر دی گئی تھی لیکن بین الاقوامی میڈیا اب بھی اس جنگ میں 10,000 یمنیوں کے مارے جانے کا دعویدار ہے۔

یمن کی تنظیم حقوق بشر کے اعلان کے مطابق مندرجہ بالا اعداد و شمار کے علاوہ 30,000 لوگ اس جنگ کے بالواسطہ اثرات کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں بڑی وجوہات بری و بحری محاصرے کی وجہ سے پھوٹنے والی وبائی بیماریاں، ناکافی ادویات، پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور غذائی قلت ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 786018
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب