0
Monday 8 Apr 2019 14:43

بھاجپا کو شکست نظر آئی تو کشمیریوں پر سختی شروع ہوئی، فاروق عبداللہ

بھاجپا کو شکست نظر آئی تو کشمیریوں پر سختی شروع ہوئی، فاروق عبداللہ
اسلام ٹائمز۔ میرواعظ عمر فاروق کو 18 تاریخ کو نئی دہلی طلب کرنے کو حق رائے دہی کو سبوتاژ کرنے کا حربہ قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اِسی روز میرواعظ کو دہلی کیوں طلب کیا گیا ہے جس دن یہاں ووٹ ڈالنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم میرواعظ کو لے جائیں گے، یہاں حالات خراب ہونگے اور ووٹنگ نہیں ہوگی لیکن ان کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ نہ تو میر واعظ کو کچھ کرسکتے ہیں اور نہ ہی ووٹنگ عمل میں کوئی رخنہ ڈالنے میں کامیاب ہونگے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج ایک الیکشن مہم کے دوران زیڈی بل اور راجباغ میں اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج یہاں کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، جماعت اسلامی پر پابندی، لبریشن فرنٹ پر پابندی، علیحدگی پسندوں کی گرفتاریاں اور دیگر این آئی اے کے کیس نکالے جارہے ہیں، سب کو جیل منتقل کیا جارہا ہے، لیکن پہلے ایسا کیوں نہیں کیا جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت کو ایسا کرنے کی ضرورت اس لئے آن پڑی ہے کیونکہ ان کو سمجھ آگیا ہے کہ شکست بھاجپا کا مقدر بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور آر ایس ایس والے نہ صرف مسلمانوں کے دشمن ہیں بلکہ یہ لوگ انسانیت کے خلاف ہیں۔
خبر کا کوڈ : 787539
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے