0
Thursday 11 Apr 2019 18:47

حسینی فکر کے ذریعے اتحاد، اتفاق، باہمی ہم آہنگی اور مسلکی و مذہبی رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، میر آصف

حسینی فکر کے ذریعے اتحاد، اتفاق، باہمی ہم آہنگی اور مسلکی و مذہبی رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے، میر آصف
اسلام ٹائمز۔ منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی ناظم علامہ میر آصف اکبر قادری نے کہا ہے کہ معاشرے میں بھائی چارے، رواداری، برداشت اور تحمل کے جذبات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی امن دمشن ہمارے اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ امت مسلمہ کو متحد کرنا علماء کرام کا دینی فریضہ اور وقت کی ناگزیر ضرورت ہے، یہ وقت اتحاد و اتفاق سے کام کرنے کا ہے، علمائے کرام و مشائخ عظام ممبر رسول (ص) سے بھائی چارے، یگانگت اور برداشت کا درس دیں۔

انہوں نے کہا کہ حسینی فکر کے ذریعے اتحاد، اتفاق، باہمی ہم آہنگی اور مسلکی و مذہبی رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے جبکہ یزیدیت فتنہ، فرقہ و فساد، تفرقہ کا نام ہے جو معلمین کی کوششوں کی وجہ سے آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میلاد حضرت امام حسین(ع) کے موقع پر اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر ڈاکٹر نور الحق قادری، ڈاکٹر غضنفر مہدی، ڈاکٹر محمد حسین ہمدانی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

علامہ میر آصف اکبر نے کہا کہ قائد منہاج القرآن ڈاکٹر طاہر القادری کی اتحاد امت کیلئے خدمات کا آج پوری دنیا اعتراف کر رہی ہے، ڈاکٹر طاہر القادری کی امن و انسانیت کیلئے عالمگیر خدمات کا اعتراف سعودی عرب میں ہونیوالے او آئی سی کے حالیہ اجلاس میں بھی کیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے او آئی سی کے اجلاس میں انسداد دہشتگردی اور امن کے قیام کے موضوع پر خطاب کیا، پاکستان سمیت پوری دنیا ڈاکٹر طاہر القادری کے نصاب امن سے استفادہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے سیرت مصطفی (ص) سے بڑھ کر اور کوئی دستور نہیں، اپنی زندگیوں کو حضور (ص) کے پیغام رحمت سے آراستہ کیا جائے تا کہ دنیا امن و محبت کا گہوارہ نظر آئے۔
خبر کا کوڈ : 788062
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب