0
Thursday 11 Apr 2019 07:42

سید حسن نصراللہ کا ایک اور سچ

سید حسن نصراللہ کا ایک اور سچ
اداریہ
ایک ایسے عالم میں جہاں جھوٹ اور کذب بیانی سیاست کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور دنیا کی ایک بڑی عالمی طاقت کا سربراہ روزانہ کی اوسط سے بیسیوں جھوٹ بول رہا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ کے بارے میں دوست اور دشمن سب اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی جھوٹ کا سہارا نہیں لیا ہے۔ سخت سے سخت حالات میں حتیٰ جنگ اور جارحیت کے عروج میں بھی جب مجاہدین اسلام اور حزب اللہ کے نوجوانوں کو جوش و جذبے کی اشد ضرورت تھی، آپ نے ان کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے بھی جھوٹ کا سہارا نہیں لیا۔ سید حسن نصراللہ کی صداقت کی گواہی غاصب صہیونی حکومت کے حکام اور صہیونی بستیوں میں موجود سید حسن نصراللہ کے خون کے پیاسے کٹر صہیونی بھی دیتے ہیں۔

گذشتہ دنوں علمبردار کربلا حضرت عباس بن علی علیہ السلام کے روز ولادت باسعادت کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے ان اقدامات سے ہمیں یقین ہو رہا ہے کہ ہم مضبوط اور قوی ہو رہے ہیں کہ دشمن ہمارے اوپر بابندیاں لگا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کی جنگ میں غیر جانبداری کوئی معنا و مفہوم نہیں رکھتی اور ہم امریکہ کو نظریاتی، ثقافتی اور عملی حوالے سے ایک دہشت گرد ریاست تصور کرتے ہیں۔ امریکہ غاصب اسرائیل کی خاطر تمام امت مسلمہ کی توہین کرتا ہے اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ دہشت گردوں کو امریکہ کی ہر طرح کی حمایت حاصل ہے۔

سید حسن نصراللہ نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ امریکہ صرف دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا بلکہ خود مجسم دہشت گردی ہے، ہم اس دہشت گردی کے خلاف جس کا ایک مصداق ہروشیما ہے، مقابلہ کریں گے۔ سید حسن نصراللہ نے سپاہ کے خلاف امریکی صدر کے حالیہ موقف کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی آئینی، قانونی اور باقاعدہ قومی فورس ہے اور اس کے خلاف امریکی صدر کا اقدام غیر آئینی، غیر اخلاقی، غیر قانونی اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ سید حسن نصراللہ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ہم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں اور سپاہ پاسداران نے دہشت گردی کے خلاف خطے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس وقت اس ادارے کو علاقے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سید حسن نصراللہ نے ببانگ دہل یہ بات کہی ہے کہ ہمیں اس لیے دہشت گردوں کی فہرست میں قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ہم طاقتور ہوچکے ہیں۔ اگر ہم ان کے مقابلے میں کمزور ہوتے تو وہ ہمارے خلاف پابندیاں نہ لگاتے اور ہمیں محدود کرنے کی کوشش نہ کرتے۔
خبر کا کوڈ : 788074
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش