0
Friday 12 Apr 2019 09:35

کوئٹہ کی فروٹ منڈی میں زوردار دھماکہ، 16 افراد جاں بحق، 30 زخمی

کوئٹہ کی فروٹ منڈی میں زوردار دھماکہ، 16 افراد جاں بحق، 30 زخمی
اسلام ٹائمز۔ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں واقع سبزی منڈی کے قریب دھماکے سے 16 افراد جاں بحق اور 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی ائی جی) رزاق چیمہ نے 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک (فرنٹیئر کور) ایف سی اہلکار جبکہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 8 افراد شامل ہیں۔ سبزی منڈی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا، دھماکے میں جاں بحق اور زخمی افراد ہزار گنجی کے منڈی سے سبزی اور فروٹ خریدنے آئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق دھماکہ صبح سویرے ہوا اور کافی زور دار تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، تاہم دھماکے کی نوعیت کا اندازہ ابھی نہیں لگایا گیا۔ دھماکے کے بعد پولیس، سکیورٹی اور ریسکیو اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، علاقے کو خالی کروا کر لوگوں کو آنے جانے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو جائے وقوعہ سے قریب بولان میڈیکل کملیکس منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد دینے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ خیال رہے کہ کوئٹہ کا علاقہ ہزار گنجی میں اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ دھماکوں کی زد میں رہ چکا ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں واقع سبزی منڈی میں دھماکے سے 16 افراد جاں بحق اور 2 درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی ائی جی) عبدالرزاق چیمہ نے 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار، 8 ہزارہ برادری کے افراد اور 7 دیگر افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمیوں میں 4 ایف سی اہلکار اور دیگر شامل ہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق ہزارہ کمیونٹی کے افراد روزانہ یہاں سبزی لینے کے لیے قافلے کی شکل میں آتے ہیں، جن کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پولیس اور ایف سی اہلکار بھی ہمراہ ہوتے ہیں۔ آج بھی وہ 11 گاڑیوں کے قافلے میں آئے، جس میں 55 افراد سوار تھے اور معمول کے مطابق پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے انہیں منڈی میں پہنچا کر سبزی منڈی کے گیٹ اور اطراف میں پوزیشز سنبھال لی تھیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق آلو کی دکان سے سامان گاڑیوں میں لوڈ کرتے ہوئے دھماکہ ہوا جبکہ دھماکہ خیز مواد آلو کی بوریوں میں چھپایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تفتیش جاری ہے اور حتمی تحقیقات کے بعد ہی کہا جاسکتا ہے کہ آیا دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا یا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ منڈی کے گیٹ میں دھماکہ خیز مواد چھپا کر پہلے بھی دھماکہ کیا گیا تھا، جس میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ جس کے بعد پولیس نے اس سے قبل بھی حفاظتی اقدامات کے سلسلے میں نگرانی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات بہتر بنانے ہدایت کی تھی، تاکہ دکانوں کے اندر اور بوریوں میں کوئی چیز چھپائی نہ جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں (فرنٹیئر کور) ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دھماکہ صبح سویرے ہوا، جس وقت منڈی میں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے اور کافی زور دار تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، تاہم دھماکے کی نوعیت کا اندازہ ابھی نہیں لگایا گیا۔

وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال خان نے ہزار گنجی میں دہشت گردی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے شہداء کے غم میں برابر کے شریک ہیں، شدت پسند سوچ کے حامل افراد معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کا تدارک ناگزیر ہے۔ ان کا مزید کہا کہ پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا، انسانیت کے دشمن دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اس کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعہ میں ملوث عناصر اور ان کے سرپرستوں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے اور زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور دیگر سیاستدانوں نے بھی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
خبر کا کوڈ : 788210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے