0
Friday 12 Apr 2019 20:01

نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو دہشتگردی ختم ہوچکی ہوتی، محمد حسین اکبر

نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو دہشتگردی ختم ہوچکی ہوتی، محمد حسین اکبر
اسلام ٹائمز۔ تحریک حسینیہ پاکستان کے سربراہ اور ادارہ منہاج الحسینؑ لاہور کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا۔ لاہور میں تحریک حسینیہ کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ محمد حسین اکبر کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو جاتا تو آج ملک دہشتگردوں سے پاک ہوچکا ہوتا، مگر افسوس کہ دہشت گردوں کے سرپرستوں کو قومی دھارے میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشتگردوں کیخلاف فی الفور آپریشن شروع کیا جائے اور واقعہ کی ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کو تیز کیا جائے اور دہشتگردوں کے ساتھ ان کے سہولتکاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مصلحتوں سے نکل کر دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں کرے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں آج کے دن اب تک 2 دھماکے ہو چکے ہیں، جن میں 25 کے قریب افراد شہید ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہیں، حکومت زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرے اور کوئٹہ کے مضافات میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہونیوالے دھماکوں میں وہی دہشتگرد ملوث ہیں، جو سرحد پار جا کر ایرانی فوجیوں کو بھی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں، حکومت راست اقدام کرے اور ملت جعفریہ کا مزید امتحان نہ لے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ قوم روز اول سے ہی قربانیاں دیتی آرہی ہے، یہ نہ ہو کہ مظلوم بھی اپنے دفاع کیلئے اسلحہ تھام لیں، ملت جعفریہ اگر باہر نکل آئی تو حکومت کیلئے حالات کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 788308
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے