0
Sunday 14 Apr 2019 22:16
امام کعبہ کو سعودی حکومت کی پالیسیوں کی وکالت نہیں کرنی چاہیئے

امام کعبہ کو فرقہ وارانہ طرز عمل کا باعث نہیں بننا چاہیئے، عبدالقدیر خاموش

امام کعبہ کو فرقہ وارانہ طرز عمل کا باعث نہیں بننا چاہیئے، عبدالقدیر خاموش
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اہلحدیث کے سربراہ قاضی عبدالقدیر خاموش نے امام کعبہ عبداللہ بن العواد الجہنی کی پاکستان آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ امام کعبہ بیت اللہ کی طرح پوری امت کا اثاثہ ہیں، انہیں کسی ایک یا دو کی بجائے تمام مکاتب فکر کا ہونا چاہیئے، عملی طور پر یہ تاثر بھی نہیں دینا چاہیئے کہ وہ پاکستان میں کسی خاص گروہ کے مفادات کے تحفظ یا ان کی پالیسیوں کی حمایت کیلئے آتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر دیکھا گیا ہے کہ امام کعبہ جب بھی آتے ہیں، مخصوص مکتبہ فکر کی ہی دعوت پر آتے ہیں اور انہی کے اداروں میں خطاب کرتے اور مساجد میں نماز کی امامت کرواتے ہیں، جس سے فرقہ واریت کا تاثر اُبھرتا ہے اور یہ ان کے شایان شان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امام کعبہ کو غیر متنازعہ اور سب مسلمانوں کا ہونا چاہیئے، کیونکہ یہ ان کے منصب کا تقاضا ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ امام کعبہ کو فرقہ وارانہ طرز عمل کا باعث بننے کی بجائے، مسلکی عصبیتوں کے خاتمے کیلئے رہنمائی بھی کرنی چاہیئے۔ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ امام کعبہ کو سعودی حکومت کی پالیسیوں کی وکالت کرنے کی بجائے، قرآن و سنت کے مطابق حکمرانوں کی بھی اصلاح کرنی چاہیئے اور اتحاد امت کا درس عملی طور پر بھی دینا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 788627
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب