0
Tuesday 16 Apr 2019 09:30

صدی کی ڈیل نامی منصوبہ جون تک منظر عام پر لایا جائے گا، فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر نہیں، امریکی ذرائع ابلاغ

صدی کی ڈیل نامی منصوبہ جون تک منظر عام پر لایا جائے گا، فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر نہیں، امریکی ذرائع ابلاغ
اسلام ٹائمز - امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے اپنی ایک رپورٹ میں غاصب صیہونی ریاست اور فلسطینی عوام کے درمیان صلح کے امریکی منصوبے "صدی کی ڈیل" پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ غاصب اسرائیلی حکومت اور فلسطینی عوام کے درمیان جھگڑا ختم کرنے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس پیش کردہ منصوبے میں فلسطینیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے وعدے تو دیئے گئے ہیں لیکن یہ منصوبہ فلسطینی حق حاکمیت پر مبنی کسی علیحدہ ریاست سے عاری ہو گا۔ منصوبے سے آگاہ ذرائع کے مطابق وائٹ ہاوس رواں سال مئی کے اواخر یا جون کے اوائل میں یہ منصوبہ منظر عام پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ عرب ذرائع نے خبر دی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر کی طرف سے پیش کئے گئے منصوبے "صدی کے معاملے" میں فلسطینی عوام کے لئے چند ایک اقتصادی مواقع کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں جبکہ سارے کا سارا منصوبہ مقبوضہ علاقوں سمیت پورے خطے پر اسرائیلی حاکمیت منوانے کے گرد گھومتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی حکام نے اس منصوبے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اقتصادی تبدیلی کو عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کے مستقل وجود اور فلسطینی حکومت کی وقتی حیثیت کو تسلیم کر لینے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے انتخابات سے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ وہ فلسطینی مغربی کنارے کو اسرائیل میں ملحق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کا یہ فیصلہ دراصل امریکہ کے اشارے پر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وسطی ایشیا میں امریکی امن مذاکرات کار ٹیم کے سربراہ ایلن گڈنبرگ نے "صدی کے منصوبے" کے بارے کہا ہے کہ جیرڈ کشنر کا پیش کردہ یہ منصوبہ اب ہی سے مرا ہوا ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اگر اس منصوبے کا اسرائیل کی طرف بہت زیادہ جھکاو ہوگا اور امید ہے کہ ایسے ہی ہو گا تو فلسطینی عوام اسے ٹھکرا دیں گے۔ لہذا ابھی سے یہ پیشگوئی کی جا سکتی ہے کہ اسرائیل (مغربی کنارے کے) الحاق کی طرف قدم اٹھائے گا۔
 
خبر کا کوڈ : 788845
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے