0
Wednesday 17 Apr 2019 12:52

ملک میں صدارتی نظام کیلئے پارلیمنٹ بااختیار ہے، گورنر کے پی

ملک میں صدارتی نظام کیلئے پارلیمنٹ بااختیار ہے، گورنر کے پی
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کیلئے پارلیمنٹ بااختیار ہے، تبدیلی کیلئے نئے مینڈیٹ یا نئی پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔ تفصیلات کے مطابق کے پی گورنر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کیلئے پارلیمنٹ بااختیار ہے، آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت وزیراعظم پارلیمنٹ سے نظام میں تبدیلی کیلئے ریفرنڈم کی تجویز دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری پر عوامی ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے، ملک میں موجودہ نظام تبدیل ہو یا نہیں فیصلے کا اختیار عوام کے پاس ہے۔ شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ ملک میں سسٹم کونسا ہونا چاہیئے اس کا فیصلہ عوام کرتے ہیں، فیڈریشن میں صدارتی نظام زیادہ کامیاب رہتا ہے، جس ملک میں ایک اسمبلی ہو وہاں پارلیمانی نظام اچھا ہے، امریکا میں فیڈریشن ہے اور آسٹریلیا میں ایک اسمبلی کا نظام ہے۔

گورنر کے پی نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، غور کرنا چاہیئے کہ پارلیمانی نظام سے کیا فائدہ ہوا، صدارتی نظام میں صدر کو کابینہ کے چناؤ کا اختیار ہوتا ہے، ذاتی رائے ہے صدارتی نظام میں سیاسی بلیک میلنگ ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کے تحفظات ہوں تو آئینی تحفظ دینا ضروری ہے، آئین میں واضح ہے کہ ٹو تھرڈ میجارٹی ہے تو ترامیم لے آئیں، قوم فیصلہ کر لے تو آصف زرداری کیسے روکیں گے، انہوں نے برما میں آنگ سانگ سوچی کو میڈل پہنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام میں عوام براہ راست ایک شخص کو ووٹ دیں گے، پورا پاکستان سوچے گا کہ چیف ایگزیکٹو کس کو ہونا چاہیئے، موجودہ صوبوں میں ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانا چاہیں تو الگ بات ہے، جس ملک میں پارلیمانی نظام کامیاب ہے وہاں صوبے نہیں ہوتے، صوبے کو صدارتی نظام میں بہت زیادہ خودمختاری ہوتی ہے اور کابینہ صوبوں سے بھی منتخب کی جاسکتی ہے، صوبوں کو وسائل پر زیادہ کنٹرول ہوتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 789096
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب