0
Thursday 18 Apr 2019 00:51

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دوستانہ تعلقات اسرائیل کی بقاء کے لئے انتہائی اہم ہیں، یہودی-سعودی لابی کی تاکید

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دوستانہ تعلقات اسرائیل کی بقاء کے لئے انتہائی اہم ہیں، یہودی-سعودی لابی کی تاکید
اسلام ٹائمز - گزشتہ کئی مہینوں سے اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کے ساتھ سعودی حکام کی خفیہ ملاقاتوں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات پر مبنی متعدد رپورٹس میڈیا میں شائع ہوتی رہتی ہیں جبکہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو بھی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ تمام عرب ممالک کے تل ابیب کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم ہیں جس کا وہ ایک دن ضرور اعلان کریں گے۔

آجکل تل ابیب اور ریاض کے باہمی تعلقات اس قدر قریبی ہو چکے ہیں کہ واشنگٹن میں موجود اسرائیلی یہودی لابیسٹ بھی اسرائیل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے لئے بھی مشترکہ لابی چلا رہے ہیں۔ ان میں ایک امریکی ریاست "مینوسوٹا" سے سابقہ سینیٹر "نارم کولمین" بھی ہیں جو واشنگٹن میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والی لابیسٹ تنظیم "یہودی جمہوری اتحاد" (RJC) کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی لابی انگ کمپنی کے مالک بھی ہیں جو امریکہ میں سعودی اہداف پر مشتمل لابی بھی چلاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نارم کولمین نے امریکی جریدے "نیویارکر" کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو کے دوران "امریکی قومی مفادات کے حصول میں اسرائیل کی اہمیت" کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک امریکی جنرل کے بیان کی طرف اشارہ کیا جس نے اسرائیل کو ایک ایسے جنگی بیڑے سے تشبیہ دی تھی جو امریکی جنگ لڑنے کے لئے امریکہ سے دور دراز کے علاقے میں موجود ہو۔

نارم کولمین 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں "ڈونلڈ ٹرمپ" پر تنقید کرنے والوں میں سے ایک تھے جو ڈونلڈ ٹرمپ کو "یہودی دشمن" قرار دیتے تھے جبکہ اب وہ ایک ایسے شخص میں بدل گئے ہیں جو ٹرمپ کی صدارت کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کرتے نہیں تھکتا حتی یہ کہ کچھ عرصہ قبل ہی ایک دعائیہ پروگرام میں نارم کولمین نے خدا کے نام کی جگہ ٹرمپ کا نام لے لیا تھا جس پر کافی شور شرابا بھی ہوا تھا۔ وہ ٹرمپ کے ساتھ اپنی محبت کے بارے میں خود کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے چاروں طرف یہودی ہی یہودی ہیں جبکہ ٹرمپ کسی بھی سابق امریکی صدر سے بڑھ کر امریکہ-اسرائیل تعلقات کی مضبوطی کے لئے کام کر رہے ہیں۔


نارم کولمین سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ گزشتہ صدارتی الیکشن میں آپ ٹرمپ کے خلاف "مارکو روبیو" کی حمایت کرتے تھے جبکہ اب ٹرمپ کے حمایتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس کا سبب میرا یہ غلط خیال تھا کہ مارکو روبیو اپنے کہے الفاظ پر باقی رہتا ہے جبکہ یروشلم (مقبوضہ قدس شریف) کو اسرائیل کا باقاعدہ دارالحکومت تسلیم کر لینا گزشتہ 30 سال سے امریکہ کے قوانین میں تسلیم کیا جا چکا تھا اور 1992ء کے بعد آنے والے تمام امریکی صدور یہ اعلان کرتے تھے کہ امریکی سفارت خانہ یروشلم (مقبوضہ قدس شریف) منتقل کریں گے لیکن یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے جنہوں نے اپنا وعدہ سچا کیا لہذا ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ وفاداری کی گہرائی اور وسعت کے بارے میں تب میرا اندازہ غلط تھا۔


نارم کولمین اپنے انٹرویو کے دوسرے حصے میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ اپنی اسی وفاداری اور محبت کے ساتھ سرشار لہجے میں سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے گہرے دوستانہ تعلقات کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ سعودی بادشاہت کو اپنا "کسٹمر" قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میں ان کے لئے کام کرتا ہوں"۔ وہ کہتے ہیں کہ ترکی میں موجود سعودی عرب کے سفارت خانے میں جمال خاشگی کا قتل بھی اس بات کا باعث نہ بنا کہ میں ریاض کی نمائندگی میں سعودی عرب کی لابی چلانا چھوڑ دوں کیونکہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات ہمارے امن و امان کے لئے انتہائی حساس اور اسٹریٹجک ہیں اور یوں اسرائیل پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں جبکہ اس خطے میں ہمارا دشمن ایران ہے۔ مجھے خطے میں ایران کے بڑھتے اثرورسوخ کی روک تھام کے لئے انجام دئے گئے اپنے کاموں پر فخر ہے جبکہ جو کام ہم (سعودی) بادشاہت کے لئے انجام دے رہے ہیں وہ بھی اسی (اسرائیل کے) حوالے سے ہیں۔ میں نے یہاں تک جو کہہ دیا ہے بس اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔


انٹرویو کے آخری حصے میں جب کولمین سے ٹرمپ اور سعودی عرب کے لئے ان کی حمایت کے بارے دوبارہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میں ایک خطرناک ترین ملک یعنی ایران کے پورے خطے میں پھیلتے اثرورسوخ کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ سعودی عرب کے مفاد میں کام کرنا دراصل اسرائیل کے لئے کام کرنا ہے۔ میرا صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے "دانیو" (ایک دعائیہ جملہ) کہنا، دل کی گہرائیوں سے تھا کیونکہ جس چیز کی میرے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے یعنی اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے گہرے تعلقات، اس کے لئے ٹرمپ نے بہت زیادہ کام انجام دیئے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ ٹرمپ سے اتنے متنفر ہیں کہ ٹرمپ کو صرف ایک مرتبہ بھی "تمہارا شکریہ" نہیں کہہ سکتے۔


 
خبر کا کوڈ : 789221
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے