0
Thursday 18 Apr 2019 20:23

وزیراعظم اور چیف جسٹس شیعہ جوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات کا فوری نوٹس لیں، ایم ڈبلیو ایم

وزیراعظم اور چیف جسٹس شیعہ جوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات کا فوری نوٹس لیں، ایم ڈبلیو ایم
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور شیعہ افراد کی جبری گمشدگیوں کے خلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج منانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جبری گمشدگی کے واقعات کا فوری نوٹس لیں، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم کراچی کے رہنما علی حسین نقوی، مولانا صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، مولانا علی انور جعفری نے وحدت ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مولانا غلام عباس، میر تقی ظفر، آصف صفوی و دیگر بھی موجود تھے۔ علی حسین نقوی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس وقت مقتل گاہ بنا ہوا ہے، کوسٹل ہائی وے مکران، کوئٹہ، ڈی آئی خان میں تسلسل کے ساتھ ظلم و بربریت جاری ہے، ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی نہیں بلکہ دہشتگردوں کی رٹ قائم ہے، وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل درآمد کرائے اور ملکی و قومی سلامتی کیلئے فیصلہ کن اقداما ت کرے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، ہمیں ان کے سہولت کاروں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی پر تحفظات ہیں، ایسا کرنا ان کو آکسیجن فراہم کرنے اور ہزاروں شہداء لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومتیں بلوچستان کو کیوں نظرانداز کرتی ہیں، یہاں کے امن پر پے در پے حملوں پر حکمرانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے، مستقبل کے معاشی گیٹ وے کو نظر انداز کرنا انتہائی مغحکہ خیز ہے۔ علی حسین نقوی نے کہا کہ کراچی میں بے گناہ شیعہ افراد کے خلاف کریک ڈاون کیا جا رہا ہے، مختلف علاقوں سے 80 سے زائد شیعہ نوجوانوں جن میں صحافی بھی شامل ہیں، انہیں بلاجواز گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس طرح کے اقدامات سے ملت جعفریہ میں احساس عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے، ان اقدامات پر ملت جعفریہ کے اکابرین کو فوری اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بہیمانہ شہادت، دہشتگردی، شیعہ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج منائیں گے، خانوادہِ شہداء کے لواحقین کے ساتھ بھرپور اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتے ہیں اور اس مشکل کی گھڑی میں ان کو کبھی تنہاء نہیں چھوڑیں گے، ہماری صدر اور وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف، وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز سندھ اور آئی جی سندھ سے اپیل ہے کہ شیعہ افراد کی جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیں، لاپتہ شیعہ نوجوانوں، عمائدین اور صحافیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، شہداء کے لواحقین کے لئے فوری امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے، بصورت ملت جعفریہ ملک گیر احتجاج کی کال دے گی اور حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 789377
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب