0
Monday 22 Apr 2019 14:30
دہشتگردی کے معاملات دونوں ممالک میں خلیج پیدا کرسکتے ہیں، عمران خان

پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات پر کوئی اثرانداز نہیں ہوسکتا، ڈاکٹر حسن روحانی

دہشتگردی کیخلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائیگی، مشترکہ پریس کانفرنس
پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات پر کوئی اثرانداز نہیں ہوسکتا، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات دیرینہ، ثقافتی اور مذہبی ہیں، وزیراعظم پاکستان اور وفد کی آمد کے مشکور ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ملاقات میں پاک ایران تعلقات میں مزید وسعت پر تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ عرصے سے سرحدوں پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے سکیورٹی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا، آئل اور گیس سے متعلق پاکستان کی ضروریات پوری کریں گے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کو بجلی فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے، دونوں ممالک کے درمیان کمرشل سرگرمیوں کا فروغ چاہتے ہیں۔ بارڈر سکیورٹی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ خطے کی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک میں تعلقات بڑھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور بھی پر تبادلہ خیال کیا گیا، گولان کی پہاڑیوں اور پاسداران انقلاب گارڈز پر پابندی پر بھی گفتگو ہوئی۔ چاہ بہار اور گوادر کو لنک کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک امن اور استحکام کا عزم رکھتے ہیں۔ تہران، استنبول اور اسلام آباد ریلوے لائن اور پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان بہترین تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔ حسن روحانی نے مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کے دورے کی دعوت پر مشکور ہیں، ایران میں پرتپاک استقبال پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایران کا دورہ زمانہ طالب علمی میں کیا تھا، نئے پاکستان میں کمزور طبقے کو اوپر لانا چاہتے ہیں۔ ایران میں برابری کا معاشرہ زیادہ نظر آیا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایران کے دورے میں امیر غریب کا فرق تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے دونوں ممالک میں دوریاں پیدا ہوئیں، دونوں ممالک کے درمیان ان فاصلوں کو ختم ہونا چاہیئے۔ پاکستانی عوام اور فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑی۔ نیٹو اور بھرپور فوجی طاقت کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہ ہوسکا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی کے خلاف بھی پاکستانی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، پاکستانی سرزمین سے متعلق فیصلہ مشترکہ اور ہمارے مفاد میں ہے۔ محسوس کیا کہ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک میں فاصلے بڑھا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے بلوچستان میں ہمارے اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ پاکستانی اور ایرانی سکیورٹی چیف آپس میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں اعتماد سازی پر بات چیت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرزمین سے ایران کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ چاہتے ہیں ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو نقصان نہ ہو۔ چار دہائیوں سے افغان جنگ نے پاکستان اور ایران کو متاثر کیا۔ ایران کا دورہ کرنے کا مقصد دوریاں اور فاصلے ختم کرنا ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان اور ایران کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا، پاکستان نے کسی بھی ملک کے مقابلے میں دہشت گردی کا زیادہ سامنا کیا۔ انصاف کے بغیر کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ غیر قانونی ہے، اسرائیل کا یروشلم کا اعلان عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے زور پر کشمیریوں کو دبایا جا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو ہمارا خطہ ترقی کرے گا، فلسطینیوں کے ساتھ مظالم ہو رہے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیریوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تشدد سے نہیں مذاکرات سے حل ہوگا، اچھے تعلقات اور تجارت بڑھنے سے دونوں ممالک ترقی کریں گے، ایرانی صدر سے تجارت اور دیگر شعبوں کے فروغ پر بات کی گئی۔ ایران سے تجارت محدود ہے جسے بڑھانا چاہتے ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے پاک ایران تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پرتپاک استقبال پر مشکور ہیں، ایران کے حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، ایرانی معاشرے میں سماجی مساوات کا عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کسی دہشت گرد تنظیم کی پاکستان کے خلاف کارروائی قبول نہیں، دورے کا مقصد دوریاں دور کرنا ہے، دہشتگردی کا مسئلہ دونوں ممالک کیلئے چیلنج ہے، پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، دہشتگردی سے نبرد آزما ہونے پر ہماری فورسز لائق تحسین ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے معاملات دونوں ممالک میں خلیج پیدا کرسکتے ہیں، پاکستان نے یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت نہیں کیا، افغان جنگ سے پاکستان اور ایران بہت متاثر ہوئے ہیں، افغان امن پاکستان اور ایران کے حق میں ہے، پاکستان اور ایران میں لاکھوں افغان مہاجرین مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں، فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں اسرائیل کا فلسطینی عوام پر ظلم ہے، مقبوضہ کشمیر میں 70 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، مقبوضہ وادی میں روزانہ قتل عام جاری ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، طاقت نہیں، انصاف سے ہی امن کا قیام ممکن ہے، افغان امن سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی، تجارتی شعبوں میں تعاون سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا صحت کے شعبے میں ایران کے تجربے سے مستفید ہونا چاہتے ہیں، چند دن پہلے بلوچستان میں ہمارے 14 اہلکار شہید ہوئے، ایران کو بھی دہشتگردی کے مسائل کا سامنا ہے، دورے سے ایک دوسرے پر اعتماد میں اضافہ ہوگا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان سے دو طرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت ہوئی، دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پر عزم ہیں، پاکستان ایران کے برادرانہ تعلقات پر کوئی اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا سرحدوں پر سکیورٹی کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی، سرحدوں پر دہشتگردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، سرحدوں پر سکیورٹی کیلئے مشترکہ فورس بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ حسن روحانی نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی سرحد تک پائپ لائن بچھالی ہے، خطے کے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی، افغانستان کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی، گوادر، چار بہار کی بندر گاہ کے درمیان رابطے کا فروغ چاہتے ہیں، تجارتی حجم میں مزید اضافے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان نے دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے، عمران خان سے دو طرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت ہوئی، دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔
خبر کا کوڈ : 790008
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب