2
Monday 22 Apr 2019 20:39

دشمنوں کی خواہش کے برعکس پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط ہونا چاہیئے، سید علی خامنہ ای

دشمنوں کی خواہش کے برعکس پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط ہونا چاہیئے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے دورہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ لعظمٰی سید علی خامنه‌ ای سے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنه‌ ای نے ملت پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط قلبی تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تلخیوں کے باجود دونوں ممالک کے روابط کو مستحکم اور مضبوط ہونا چاہیئے۔ حضرت آیت الله خامنه‌ ای نے برصغیر میں مسلم اقتدار کے دوران اوج، عزت اور عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین خطے میں برطانوی استعمار کی یلغار کا مقصد اسلامی تمدن کا خاتمہ تھا۔ آپ نے علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا مفاد بہترین تعلقات میں منحصر ہے، لیکن یہ روابط دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے، لیکن اس کے باجود مختلف شعبوں میں ہمکاری بہتر بنانے اور تعلقات کو تقویت دینا ضرروی ہے۔ آپ نے سرحدوں پر سکیورٹی مسائل کو اہم گردانتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر بدامنی پھیلانے والے دہشت گرد گروہ ہمارے دشمنوں سے پیسہ اور اسلحہ حاصل کرتے ہیں، جن کا مقصد پاک ایران تعلقات میں الجھنیں پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے سیلاب میں پاکستان کی طرف سے امداد کا شکریہ ادا کیا۔ تفصیلات کیمطابق رہبر انقلاب اسلامی نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی ابتداء مشہد مقدس میں روضہ امام علی ابن موسٰی رضا علیہ السلام کی زیارت سے کرنے کو باعثِ خیر و برکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولا امام رضا علیہ السلام کی عنایات کے طفیل یہ سفر دونوں ممالک کے مفید اور سازگار ثابت ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے سوموار کے روز وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کے ہمراہ ایران کے سرکاری دورے پر آئے اعلٰی سطحی وفد کے ساتھ ملاقات کی۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایرانی اور پاکستانی عوام کے درمیان تعلقات کو انتہائی گہرا اور قلبی تعلق قرار دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ دشمنوں کی آرزوؤں کے برعکس دونوں ممالک کے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مستحکم اور مضبوط بنانا چاہیئیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کی گہری تاریخی بنیادوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پاک و ہند پر مسلمانوں کا دور حکومت اس خطے کی عزت اور عظمت کے عروج کا زمانہ تھا جبکہ اس علاقے پر برطانوی استعمار کی سب سے کاری ضرب وہاں موجود نمایاں اسلامی تہذیب و تمدن کی نابودی تھی۔

ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے پاکستان کی ممتاز قومی شخصیات علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوستانہ تعلقات کا قیام دونوں ممالک کے فائدے میں ہے، لیکن ان تعلقات کے سخت دشمن بھی موجود ہیں جن کی آرزوؤں کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان مختلف میدانوں میں باہمی تعاون اور دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا چاہیئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے سرحدی مسائل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد گروہ جو سرحد پر ناامنی پھیلاتے ہیں دشمنوں کے پیسوں اور اسلحے سے لیس ہیں جبکہ سرحد پر ان کی ناامن کارروائیوں کے مقاصد میں سے ایک دونوں ممالک کے تعلقات کو سبوتاژ کرنا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید حسن روحانی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تہران میں ایرانی حکومتی عہدیداروں کے ساتھ اپنے مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی وزراء نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب وزراء کے ساتھ بہترین مذاکرات انجام دیئے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے برصغیر پاک و ہند پر برطانوی قبضے کو اس خطے کی لوٹ مار کے عروج کا زمانہ قرار دیا اور کہا کہ برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند کی تمامتر دولت کو لوٹا، وہاں کے تعلیمی نظام کو برباد کیا اور برصغیر پاک و ہند کو سونے کی چڑیا سمجھ کر اپنی کالونی بنا لیا۔
 
خبر کا کوڈ : 790070
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب