0
Tuesday 23 Apr 2019 13:15

جسٹس قاضی فائز عیسٰی دیانتدار اور قابل جج ہیں، جو ہمیشہ بلا خوف فیصلہ کرتے ہیں، پاکستان بار کونسل

جسٹس قاضی فائز عیسٰی دیانتدار اور قابل جج ہیں، جو ہمیشہ بلا خوف فیصلہ کرتے ہیں، پاکستان بار کونسل
اسلام ٹائمز۔ وکلاء برادری کے امور کو دیکھنے والی ملک کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو فوری طور پر ہٹانے کا پنجاب بار کونسل (پی بی بی سی) کا مطالبہ مسترد کردیا، ساتھ ہی اس قرارداد کو غیر ضروری کہتے ہوئے عدلیہ کی آزادی کی خلاف ورزری بھی قرار دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ کے دیانتدار اور قابل جج ہیں، جو ہمیشہ بغیر کسی خوف اور حمایت کے عدالتی امور میں فیصلہ کرتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف حالیہ مہم اس سخت فیصلے کے بعد شروع ہوئی، جس میں جج نے فیصلے میں وزارت دفاع، آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے متعلقہ سربراہان کو ہدایات جاری کی تھیں کہ اپنی کمانڈ میں ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔

اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کی نگرانی کریں اور قصوروار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں، اس کے علاوہ فیصلے میں 20 روز تک طویل دھرنے کے باعث رہائشیوں کی تکلیف کا سبب بننے کے لئے کئی حکومتی محکموں کے خلاف ریمارکس دیئے تھے، تاہم گذشتہ ہفتے پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے ایک قرارداد لائی گئی تھی جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس قرارداد میں یہ مانا گیا کہ نومبر 2017ء میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے دیئے گئے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس کے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے مبینہ طور پر مسلح فورسز کی تضحیک کی۔ پنجاب بار کونسل کی قرارداد میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ فیض آباد دھرنا کسی کے فیصلے میں مبینہ طور پر قانون کے بلند اصولوں کو مسخ کیا گیا۔

تاہم اتوار کو سندھ میں وکلاء کی 4 باڈیز نے مشترکہ قرارداد میں پنجاب بار کونسل کی قرارداد کی مذمت کیم اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین حافظ محمد ادریس شیخ کی سربراہی میں ہوا اور انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر تبصرے کو بلاجواز قرار دیا۔ اس اجلاس میں پی بی سی کے نائب چیئرمین سید امجد شاہ، محمد احسن بھون، اعظم نذیر تارڑ، محمد یوسف لغاری اور سید قلب حسین شامل تھے۔ پاکستان بار کونسل نے اپنی قرارداد میں کہا کہ پاکستان میں وکلا برادری اداروں کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

اس اجلاس کے دوران کئے گئے فیصلوں کو نائب چیئرمین پر مشتمل مختلف بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز اور اسلام آباد اور صوبائی بار کونسلز کی ایگزیکٹو چیئرمین کمیٹی، ہائی کورٹ کے صدور اور ملک کے مختلف علاقوں کے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے سراہا گیا اور حمایت کا اظہار کیا گیا۔ واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر مختلف نظرثانی درخواستیں دائر کی جاچکی ہیں، جس میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، وزارت دفاع، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، اعجاز الحق اور متحدہ قومی موومنٹ کی درخواستیں شامل ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 790196
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے