0
Wednesday 24 Apr 2019 13:18

پنجاب میں تبدیلی آ رہی ہے نہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں، چودھری سرور

پنجاب میں تبدیلی آ رہی ہے نہ میں استعفیٰ دے رہا ہوں، چودھری سرور
اسلام ٹائمز۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا ہے کہ پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی اور میں استعفیٰ نہیں دے رہا۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری محمد سرور کا کہنا تھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں غصے والا ہوں استعفیٰ میری جیب میں ہوتا ہے، لوگ سن لیں میں عوامی خدمت کیلئے آیا ہوں، چار سال محنت کی، گورنر بنا ہوں، اب میدان سے بھاگا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی پاور شہباز شریف کے مقابلے میں کم سمجھتے ہیں تو یہ غلط ہے، پنجاب کو سو فیصد وزیراعلیٰ عثمان بزدار چلا رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب اور سپیکر سے اختلاف کی خبریں غلط ہیں۔ چودھری سرور نے واضح اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میں گورنر ہوں تب تک سرور فاونڈیشن کی اندرون یا بیرون ملک ہونیوالی فنڈ ریزنگ تقریب میں شرکت نہیں کروں گا۔ سرور فاونڈیشن کے تمام فنڈ آب پاک اتھارٹی کو منتقل کیے جائیں گے۔
 
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں 5 سال حکومت کرے گی، وفاقی اور پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری مرضی سے کچھ اور فیصلے ہوتے تو پی ٹی آئی کو پنجاب میں دو تہائی اکثریت ملتی۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میں گورنر ہوں سرور فاﺅنڈیشن کی کسی بھی فنڈریزنگ کا حصہ نہیں بنوں گا، لوگوں کو فنڈ ریزنگ پر اعتراضات تھے جنہیں میں قبول کرتا ہوں۔ چودھری سرور کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں ایسا بھی وقت آیا جب میرے پاس دو راستے تھے، ایک راستہ کہ میں امیر بنوں اور دوسرا کہ میں سیاستدان بنوں، میں نے سیاست کا راستہ چنا اور ہاﺅس آف لارڈز کی طرف چل پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہاوس آف لارڈز کے دروازے مسلمانوں کیلئے بند تھے، کوئی بھی مسلمان پارلیمنٹ کا ممبر نہیں تھا، پورے یورپ میں کوئی مسلمان کسی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں تھا، کہیں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں تھی، تاہم میں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔
 
انہوں نے بتایا کہ 1997 میں انہیں برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا مسلمان ممبر بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور انہوں نے جس قرآن شریف پر حلف اٹھایا وہ آج بھی برطانوی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ جب میں امریکہ دورے پر گیا تو خبر ملی کہ میری گورنری چلی گئی، میں نے عہدوں سے کبھی پیار نہیں کیا، میں انسانوں سے محبت کرتا ہوں، مجھے جب گورنر بنایا گیا، میں سینیٹ کا ممبر تھا میں انجوائے کر رہا تھا، گورنر بنانے کا فیصلہ پارٹی نے کیا، مجھے گورنر بننے پر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی، جو پارٹی نے فیصلہ کیا میں نے اسے قبول کیا لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دو چیزیں گورنری سے اہم ہیں جو عمران خان نے میرے حوالے کیں، ایک وزیراعظم نے مجھے ٹورازم اور ثقافت کا سربراہ بنایا، میں پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ کل پنجاب آب پاک اتھارٹی کے بل پر دستخط کر دیئے ہیں، میرا جذبہ ہے کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔
 
چودھری سرور کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے بڑا کاروبار سیاحت ہے، بد قسمتی سے کسی حکومت نے اسے فروغ دینے کی کوشش نہیں کی، لیکن عمران خان نے اس پر خاص توجہ دی، میرے فیصلوں پر عمل ہوتا تو پارٹی کو پنجاب میں بھی دو تہائی اکثریت ملتی لیکن جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں اس لیے اپنے فیصلوں کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا کہ  پہلی مرتبہ پاکستان نے بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست دی ہے اس سے قبل حکومتوں کے مفاد ہوتے تھے، وہ بھارت کیخلاف موثر اقدام نہیں کرتی تھیں مگر یہ نیا پاکستان ہے اس میں پاکستان کیخلاف جارحیت کرنیوالوں کو منہ توڑ جواب ملے گا۔
 
خبر کا کوڈ : 790411
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب