0
Saturday 27 Apr 2019 18:00

کچھ عرب ممالک پاک ایران تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے، علامہ جواد نقوی

کچھ عرب ممالک پاک ایران تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے، علامہ جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان برادر ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان تاریخی، سیاسی ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں، جنہیں برقرار رکھنا دونوں ممالک کیلئے چیلنج بن چکا ہے، جس میں امریکہ اور سعودی عرب کا منفی کردار بہت زیادہ ہے، جب بھی ایران اور پاکستان قریب آنے لگتے ہیں، میڈیا کے ذریعے ایسے ایشوز شروع کر دیئے جاتے ہیں، جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا مگر دونوں کے درمیان قوتیں حالات بڑے خراب کر دیتی ہیں، اس دورے سے لگتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو، اس کے پیچھے عربی ممالک ہیں، امریکہ کی قیادت میں جو افواج بن رہی ہیں، ان میں پاکستان شامل نہیں ہوگا، اس پر معافی مانگنے کو کہا جا رہا ہے، اس قدر ان کو ناگوار گزرا موثر افراد کو یہ غصہ وزیراعظم پر نہیں بلکہ یہ عربی پیسہ بول رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتخانہ میں فوجی ٹریننگ سینٹر پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو صرف برا ماننے کی بجائے، سفارتخانہ کو تالہ لگانے کا حکم دینا چاہیئے، امریکہ اتنی جنگی تیاری پاکستان کے اندر کیوں کر رہا ہے۔؟

مسجد بیت العتیق جامعہ عروة الوثقیٰ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے ایرانی صدر کی پاکستان آمد سے پہلے اعلان کر دیا گیا کہ ایران سے آیا ہوا بھارتی جاسوس کلبھوشن پاکستان نے پکڑ لیا ہے جبکہ وہ پہلے سے پکڑا ہوا تھا، ظاہر ہے جب ایرانی صدر پاکستان آیا ہے تو ایک دن پہلے یہ بیان دیا گیا اور پاکستانی وزیراعظم ایران گیا ہے تو ایک دن پہلے یہ بیان داغا گیا کہ کوسٹل ہائی وے پر 14 سکیورٹی اہلکاروں کے قاتل ایران سے آئے تھے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کے اندر کچھ عناصر ہیں، جو ایران اور پاکستان کے تعلق کو قائم نہیں ہونے دینا چاہتے، پاکستان جب آزاد ہوا تو ایران نے پاکستان کو سب سے پہلے قبول کیا اور ایران میں جب انقلاب آیا تو پاکستان نے اس کو پہلے قبول کیا، لیکن افغان جنگ کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان دوستی کمزور ہوئی، اب پاکستان اور ایران کے درمیان پاکستان اور ایران کی دوستی کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔

اگر ہم ایک پاکستانی کی حیثیت سے سوچیں تو ایران کیساتھ تعلقات میں بہتری ہمارے قومی مفاد میں ہے، چونکہ ایران کے پاس تیل اور گیس موجود ہے، جس سے پاکستان مستفید ہوسکتا ہے، ایران سے گیس لیکر دوسرے ملکوں کو بیچ بھی سکتا ہے، جس کیلئے زمینی سرحد پر موجود ہے، اسی طرح پاکستان ایران کی بھی مشکلات حل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اس وقت ضرورت بھی ہے اور بھارت کی طرح پاکستان کے نخرے برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جائے گا، یہ بات اچھالی گئی، یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھی کہ تجارتی معاہدے پر بات نہیں ہونی اور نہیں ہوئی۔ واپس آنے کے بعد وزیراعظم کی جو درگت بنی ہے، وہ کسی کی بھی نہیں بنی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرانے میں سعودی عرب کو زیادہ دلچسپی ہے کہ یہ مشکلات بڑھیں، چونکہ پاکستان گوادر کو چین کے حوالے کرچکا ہے، اس کے باوجود سعودی ریفائنری کی بات کی ہے، جو نہ بنے گی اور نہ بننی ہے۔

ایران کے دشمن نے پاکستان کی سرحد لی ہے اور پاکستان کی دشمن نے ایران کی سرحد لی ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ایران میں بیان کو دوسرے معنی پہنا کر تنقید کی گئی، حالانکہ انہوں نے کہیں حکومت یا فوج کے ملوث ہونے کی بات نہیں کی بلکہ اس طرف اشارہ تھا کہ دہشتگرد اگر ماضی میں پاکستانی زمین استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے دور حکومت میں نہیں ہوگا۔ پاکستانی افواج کی وجہ سے یہ دہشتگرد پکڑے گئے ہیں اور پاکستان افواج کی وجہ سے ایرانی یرغمال واپس کیے گئے ہیں، اس بیان کو اتنا اچھالا جا رہا ہے کہ گویا ان کی حکومت کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے لگتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو، اس کے پیچھے عربی ممالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو وزیراعظم کی طرف سے صاحبہ کہنا ان کے عہدے سے مناسبت نہیں رکھتا۔
خبر کا کوڈ : 790978
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب