1
Friday 3 May 2019 22:55

یونیسکو کے 2030 ایجوکیشن پلان کا مقصد طلبہ کے فلسفۂ حیات، ذوق و طرز زندگی کو مغربی بنیاد پر استوار کرنا ہے، سید علی خامنہ ای

یونیسکو کے 2030 ایجوکیشن پلان کا مقصد طلبہ کے فلسفۂ حیات، ذوق و طرز زندگی کو مغربی بنیاد پر استوار کرنا ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے "یوم معلم" کی مناسبت سے ہزاروں اساتذہ کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استاد کسی بھی قوم کے اہم ترین اثاثے یعنی انسانی سرمائے کو پروان چڑھانے والے، جدید تمدن کی بنیادیں ڈالنے والے، جہالت اور نادانی کے خلاف جہاد کرنے والے اور کسی بھی قوم کی پہچان اور اس کے تمدن کو تشکیل دینے والے ہوتے ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے دوران "استاد کے دن" کی مناسبت سے آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری کی گرانقدر علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہید مطہری حقیقی معنی میں ایک درد دل رکھنے والے استاد تھے، جنہوں نے اپنی اعلیٰ فکر اور قوی انداز بیان کے ساتھ گہرے اسلامی مطالب کو جوانوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیا جبکہ اس راہ میں ان کی شہادت ان کی علمی خدمات پر خداوند متعال کی طرف سے مہرِ رضایت ثبت کئے جانے کے مترادف ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے تعلیم و تربیت کے نظام میں استاد کے کردار کو بنیادی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کا اہم ترین اثاثہ انسانی سرمایہ ہے، کیونکہ انسانی سرمائے سے عاری سرزمین ان امیر ملکوں کے مانند ہے، جن کی قومی ثروت ان کی جہالت کی وجہ سے انسانیت کے ساتھ خیانت کرنے والے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے اسلامی انقلاب سے پہلے کی طاغوتی حکومت کے دوران ایران تیل کے ذخائر سے تو مالا مال تھا لیکن غیر قومیں ہمارے تیل پر مسلط ہوگئی تھیں، جس کی آمدن کو انہوں نے اپنے تمدن اور اپنے کارخانے بنانے میں صرف کیا جبکہ یہ ایرانی تیل ہی تھا جس کے ذریعے انہوں نے اپنی جنگوں میں فتوحات بھی حاصل کیں۔

ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے کسی بھی قوم کی مضبوط شناخت اور مستحکم و صحیح فکری بنیادوں پر استوار ثقافت کو اس قوم کے تمدن کی تشکیل میں اصلی بنیاد قرار دیا اور یونیسکو کے 2030 ایجوکیشن پلان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 2030 ڈاکومنٹ کا اصلی مقصد تعلیم و تربیت کے نظام کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسکو کے اس پلان کا مقصد تمام اقوام کے تعلیم و تربیت کے نظام کو ایسا بنانا ہے، جس میں نوجوانوں کو مغربی طرز کے فلسفۂ حیات اور مغربی زندگی کے طور طریقوں کے مطابق تعلیم دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ ہمارے دیندار اساتذہ جو اپنے روشن قومی مستقبل کے آرزومند ہیں، اپنی کلاسز میں مغربی قوتوں کے سپاہی پروان چڑھائیں، تاکہ ہمارے طلباء ان کے سپاہی بن کر ظاہری وضع و قطع کے حامل ٹائی لگائے ان وحشیوں میں بدل جائیں جو بآسانی انسانوں کی جان لے لیتے ہیں اور ہمیشہ قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطلوبہ تربیتی نظام کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم و تربیت کے نظام سے پڑھے لکھے، قابل، عقلمند، پرہیزگار، نیک سیرت، موثر، بہادر اور عملی کام کرنے والے افراد پروان چڑھنا چاہئیں۔
خبر کا کوڈ : 792072
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے