0
Sunday 5 May 2019 20:15

پاکستان سے آئی اور کشمیر میں بیاہی خواتین ذہنی تناؤ کی شکار

پاکستان سے آئی اور کشمیر میں بیاہی خواتین ذہنی تناؤ کی شکار
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں مقیم پاکستانی بہوؤں کی شناخت گرد رفتار میں کھو گئی ہے جبکہ سرحد عبور کرنے کے بعد نا ہی انہیں ریاستی شہریت فراہم کی گئی اور نا ہی انہیں واپس پاکستان یا آزاد کشمیر لوٹنے کے لئے سفری دستاویزات فراہم کئے جا رہے ہیں۔ سرینگر کے ایوان صحافت میں ان خواتین نے اپنی ردواد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں سفری دستاوزات فراہم کئے جائیں گے۔ زیبا نامی ایک خاتون نے کہا کہ ہماری شادیاں کشمیری لڑکوں سے ہوئی، جو نامسائد حالات کی وجہ سے کنٹرول لائن کو عبور کر گئے تھے اور پھر ایک پالیسی کے تحت واپس آئے، تو انکی بیوئیوں اور بچوں کو شہریت سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہرملک کا دستور ہے کہ اگر کوئی شہری کسی غیر شہری لڑکی سے شادی کرتا ہے تو کچھ عرصہ کے بعد اس کی بیوی کو بھی شہریت دی جاتی ہے، تاہم جموں کشمیر میں انہیں اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ زیبا نے کہا کہ ہم اس بات سے بے خبر ہے کہ ہم کس ملک کے شہری ہے، کیونکہ پاکستان ہمیں جانے نہیں دیا جاتا اور جموں کشمیر میں شہریت نہیں دی جاتی۔ شمالی کشمیر میں اپنی زندگی کے ایام بسر کر رہی زیبا نے جذباتی انداز میں کہا کہ سفری دستاویزات کی عدم فراہمی کے نتیجے میں پاکستان سے آئی اور کشمیر میںبیاہی خواتین ذہنی تناؤ کی شکار ہوگئی ہیں اور 5 لڑکیوں نے خودکشی بھی کی ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود صفیہ نامی ایک اور خاتون نے کہا کہ جس طرح کارواں امن بس سروس شروع کی گئی ہے، اسی طرح ان خواتین کے لئے بھی مخصوص سروس شروع کی جانی چاہے، جن کی شادیاں کشمیری نوجوانوں سے ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ کئی ایک لڑکیوں کا طلاق ہوا ہے اور وہ اپنے سابق شوہروں سے بدستور رہنے کے لئے مجبور ہیں، کیونکہ ان کے لئے دورا کوئی آسرا نہیں۔ صفیہ نے بتایا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج خود ایک خاتون ہے، وہ ہمارے درد کو سمجھ سکتی ہے کہ میکے سے دور خواتین کے دل پر کیا بیت جاتی ہے۔ انہوں نے نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی وہ اس انسانی مسئلہ کو انسانیت کی نگاہ سے حل کرنے میں پہل کریں۔
خبر کا کوڈ : 792309
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب