0
Wednesday 8 May 2019 16:31

لاہور شہر میں ہونیوالے دھماکوں میں اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں

لاہور شہر میں ہونیوالے دھماکوں میں اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں
لاہور سے ابو فجر کی رپورٹ

دہشتگردوں نے 1 سال 10 ماہ بعد ایک مرتبہ پھر لاہور کو نشانہ بنایا۔ اِس سے پہلے آخری دھماکہ جولائی 2017 میں فیروز پور روڈ کی سبزی منڈی میں ہوا تھا۔ داتا دربار پر ہونیوالے دھماکے میں 9 افراد شہید ہو گئے جبکہ درجنوں زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئے۔ اِس سے پہلے جولائی 2017 میں فیروز پور روڈ کی سبزی منڈی میں ہونیوالا دھماکہ متعدد پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد کی جانیں لے گیا تھا۔ اِس سے پہلے اپریل 2017 کو بیدیاں روڈ پر دھماکے میں 4 فوجی اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید ہو گئے تھے۔

فروری 2017 میں مال روڈ پر ہونیوالے دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک سید مبین سمیت 16 افراد شہید ہوئے تھے۔ اِن دھماکوں سے پہلے مارچ 2008 میں جی پی او چوک میں ہونیوالے خود کش حملے میں 24 افراد شہید ہوئے۔ 2008ء میں ہی ایف آئی اے بلڈنگ اور ماڈل ٹاون میں  خودکش دھماکوں میں 24 افراد شہید ہوئے۔ لاہور میں ہی 2009ء میں جامعہ نعیمیہ میں ہونیوالے خودکش حملے میں مولانا سرفراز نعیمی سمیت 8 افراد شہید ہوئے۔ 15 اکتوبر 2009 کو مناواں پولیس ٹریننگ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جس میں  18 افراد شہید ہو گئے تھے۔ 8 مارچ 2010 میں ماڈل ٹاون میں خودکش حملے میں 17 افراد جاں بحق ہوئے۔ 12 مارچ  2010 میں آر اے بازار میں ہونیوالا دھماکہ 64 افراد کی جانیں لے گیا۔

یکم جولائی 2010 میں ہونیوالے دھماکے میں 55 افراد شہید ہوئے۔ یکم ستمبر 2010 میں یوم شہادت حضرت علیؑ کے جلوس میں ہونیوالے دھماکے نے 35 افراد کی جانیں لیں۔ اسی طرح  25 جنوری 2011 کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم پر نکلنے والے جلوس کو نشانہ بنایا گیا۔ 2012 میں ریلوے سٹیشن پر ہونیوالا دھماکہ 5 افراد کی جانیں لے گیا۔ 17 فروری 2014 میں پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ہونیوالے دھماکے میں 7 افراد شہید ہوئے۔ 2 نومبر 2014 میں واہگہ بارڈر پر ہونیوالا خودکش حملہ  73 افراد کی جانیں لے گیا۔ 2015 میں یوحنا آباد میں چرچ کے باہر ہونیوالا دھماکہ 15 افراد کی جانیں لے گیا۔ گلشن اقبال پارک میں دھماکے میں 50 زندگیوں کے چراغ گل ہوئے۔
خبر کا کوڈ : 793020
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے