0
Friday 10 May 2019 20:05

گلگت، لاپتہ افراد کی بازیابی، جی بی کے حقوق کیلئے تحریک حمایت مظلومین کی احتجاجی ریلی

گلگت، لاپتہ افراد کی بازیابی، جی بی کے حقوق کیلئے تحریک حمایت مظلومین کی احتجاجی ریلی
اسلام ٹائمز۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور جی بی کے حقوق کیلئے تحریک حمایت مظلومین کے زیر انتظام امامیہ مسجد سے خزانہ روڈ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جن پر مظلومین کی حمایت اور ظالمین کے خلاف نعرے درج تھے جبکہ مظاہرین نے خالصہ سرکار، پہاڑوں پر قبضہ، جنگلات پر قبضہ اور متنازعہ سمری نا منظور کے پر شگاف نعرے بھی لگائے۔ احتجاجی ریلی میں قائد ملت جعفریہ سید راحت حسین الحسینی، اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی رہنمائوں سمیت سینکڑوں افراد شریک تھے۔ احتجاجی ریلی خزانہ روڈ پہنچ کر جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف کیپٹن ریٹائرڈ شفیع خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرپشن کی تاریخ رقم ہو چکی ہے، ہر طرف بندر بانٹ ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، 4 ٹھیکیداروں کے گرد جی بی کا نظم و نسق گھوم رہا ہے، وزیراعلی کو صرف اپنے حلقے کی سیاست کی فکر ہے، وزیراعلی کی حمایت نہ کرنے والے ہر علاقے میں پسے ہوئے ہیں، حق کی بات کرنے والی خاتون وزیر کو نشانہ بنا کر وزارت سے ہٹایا گیا، اگر حفیظ میں ہمت ہوتی تو دیامر کے دوسرے وزراء کے خلاف کاروائی کرتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے دورہ دیامر کے موقع پر صرف ثوبیہ مقدم نے نہیں بلکہ دیگر وزراء نے بھی انہیں لفٹ نہیں دی تھی، ہم خاتون وزیر کے ساتھ ہیں۔ تحریک حمایت مظلومین صرف اہل تشیع کی نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مظلومین کی تحریک ہے۔ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو دعوت ہے کہ وہ تحریک حمایت مظلومین میں شامل ہو جائیں۔ کیپٹن (ر) محمد شفیع خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بادشاہت اور آمریت کا نظام چل رہا ہے، جی بی اسمبلی کو گن پوائنٹ پر چلایا جا رہا ہے، کٹھ پتلی اسمبلی صرف چند لوگوں کی مراعات کیلئے رہ گئی ہے، نہ کسی کی سنی جاتی ہے اور نہ ہی اسمبلی کے فیصلوں اور قراردادوں پر عمل درآمد ہوتا ہے، اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، اداروں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ انہوں نے لینڈ ریفارمز کمیشن پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کی ایک ایک انچ زمین اور ایک ایک درخت عوام کی ملکیت ہے، جی بی اسمبلی سے قرارداد پاس ہونے کے باوجود سپریم اپیلٹ کورٹ میں جج تعینات کر کے جی بی کے عوام کی توہین کی گئی ہے اور غلام سمجھ کر وفاق سے فیصلے مسلط کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پری بجٹ سیشن بلائے بغیر بجٹ پیش کیا گیا تو بجٹ کو مسترد کریں گے۔ حفیظ الرحمان صرف اپنے حلقے کو مد نظر رکھ کر بجٹ بنواتا ہے، دیامر اور غذر کے عوام بھی پسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیکر چیف الیکشن کمشنر کی سمری بھجی جائے، جوڈیشل کمیشن کے زریعے ججز کی تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سمریاں بھیجی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک حمایت مظلومین کی طرف سے پیش کردہ چاڑٹر آف ڈیمانڈ کی حمایت کرتے ہیں اور مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا، ہم کسی خاص مسلک کیلئے نہیں بلکہ جی بی کے تمام مظلوم عوام کے حق اور ظالموں کیخلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبر حاجی رضوان علی نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ملک کا بہت بڑا المیہ اور بدنما دھبہ ہے۔ گلگت بلتستان کی چراگاہیں، جنگلات، زمینیں عوام کی ملکیت ہیں ایک انچ بھی کسی کو دینے کیلیے تیار نہیں ہیں۔ جی بی کا بچہ بچہ اپنے حق کیلیے خون کا اخری قطرہ بہی بہانے کے لیے تیار ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں تحفظ زمین و حق ملکیت کے حوالے سے قرار داد پیش کی جو منظور بھی ہوئی ہے، لینڈ ریفارمز کمیشن اس قرارداد پر عملدر آمد کرے ورنہ اپنے حق کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔

تحریک حمایت مظلومین کے رہنما محمد الیاس صدیقی نے کہا کہ خالصہ سرکار کے نام پر عوامی ملکیتی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، سانحہ 13 اکتوبر کی جوڈیشل انکوائری منظر عام پر لائی جائے اور متنازعہ شخض کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کی سمری فوری واپس لی جائے اور ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کیا جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو گورنر ہاوس اور وزیراعلی ہاوس کی طرف رخ کرینگے، صدر مرکزی امامیہ کونسل مظفر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی بی میں ملت جعفریہ کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں، حکومتی پالیسیاں اور فیصلے انصاف پر مبنی نہیں لہذا حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرے، اب خاموش نہیں رہ سکتے، آواز بلند کرینگے تاکہ کوئی بھی حقوق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے۔ دریں اثنا تحریک حمایت مظلومین اور مرکزی امامیہ کونسل کے زیر اہتمام گلگت دنیور، نومل، نگر، سمیت دیگر علاقوں میں بعد از نماز جمعہ احتجاجی ریلیاں اورمظاہرے منعقد ہوئے جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام شریک ہوئے۔
خبر کا کوڈ : 793414
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے