0
Saturday 11 May 2019 18:58

تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کروا کر انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، علامہ عابد الحسینی

تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کروا کر انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، علامہ عابد الحسینی
اسلام ٹائمز۔ تحریک حسینی کے سربراہ سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسینی نے کرم کے گونا گوں مسائل، بالش خیل شاملات کے دیرینہ مسئلے کے حل، پاراچنار میں عدالت کے لئے کلاس فور بھرتی کے سلسلے میں میرٹ اور اہلیت کو نظر انداز کرکے نان لوکل افراد کی تعیناتی نیز پاکستان بھر میں ملت تشیع کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے حوالے سے مدرسہ رہبر معظم میں آج ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر تحریک حسینی کے ساتھ مجلس علمائے اہلبیت اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنما بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر علامہ عابد الحسینی، تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری، تحریک کے نائب صدر مولانا عابد حسین جعفری اور مجلس علماء کے صدر علامہ احمد علی روحانی نے کہا کہ کرم انتظامیہ طوری بنگش اقوام کو انصاف دلانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے درجنوں مرتبہ اپنے مسائل ان کے گوش گزار کرائے ہیں،تاہم انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سینکڑوں کی تعداد میں اہل تشیع کو گھروں سے بغیر کسی جرم کے اٹھا کر غائب کر دیا گیا اور وہ سالوں سے اپنے خانوادوں سے بچھڑے ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرم انتظامیہ نے تعصب کے عینک لگائے رکھی اور وہ کسی بھی مسئلے میں میرٹ کو ملحوظ نظر نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ طبقہ اپر کرم بالخصوص پاراچنار میں رہتا ہے۔ تاہم جب بھرتیاں ہوتی ہیں تو میرٹ اور اہلیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاراچنار کی بجائے لوئر کرم سے بھرتیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ عرصہ قبل پاراچنار میں عدالت کے لئے کلاس فور ملازمین کی بھرتی کے حوالے سے متعلقہ محکمہ کی جانب سے ایک اشتہار دیا گیا۔ جس کے لئے کرم بھر سے اہل امیدواروں نے درخواستیں جمع کیں۔ مگر گذشتہ دنوں معلوم ہوا کہ کسی میرٹ اور اہلیت کا لحاظ رکھے بغیر ایک مخصوص شخص کی سفارش پر تمام تر بھرتیاں بگن اور لوئر کرم سے ہوکر اسامیوں کو پر کر دیا گیا ہے تو کیا پاکستان میں میرٹ کا سسٹم سرے سے ہی ختم ہوگیا۔ کیا موجودہ حکومت بھرتیوں کیلئے قرعہ اندازی کا نیا نظام متعارف کروا رہی ہے یا میرٹ صرف دیگر اضلاع کیلئے ہے، کرم اس سے مستثنیٰ ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہر میدان میں طوری اور بنگش قبائل کو نظرانداز کرکے دیگر افغان اور غیر رجسٹرڈ قبائل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ 

علامہ عابد حسینی کا کہنا تھا کہ آئے روز پاکستان میں شیعیان حیدر کرار کو ظلم و بربریت اور ناانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بے گناہ افراد کو اٹھا کر سالوں تک غائب کرکے ماورائے عدالت سزائیں دی جاتی ہیں۔ جن کے انتظار میں انکی مائیں اور بہنیں سالوں تک بیٹھی رہتی ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی عدالت نہیں کہ ملزمان یا مجرمین پر کیس چلایا جاسکے۔ اسکے علاوہ ہزاروں افراد کو کوئٹہ، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کرکے قتل کیا جاتا ہے، قاتل ان کے قتل کا نہ صرف اعتراف کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں، جبکہ اس ملک میں قاتل پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ ہم مرکزی حکومت نیز دیگر ذمہ دار اداروں سے پوچھتے ہیں کہ کیا چھ کروڑ سے زائد شیعوں کی اس ملک میں ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ کیا چھ کروڑ سے زیادہ شیعہ عوام اس ملک کے باشندے نہیں۔ اگر انہیں اس کے تحفظ کی کوئی تدبیر نہیں سوجھتی تو انہیں خود اجازت دی جائے کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر خود ہی اقدام کرے۔ مقررین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کرم سمیت ملک بھر کے تمام لاپتہ افراد کو فوراً بازیاب کرایا جائے۔ اور جن کے خلاف کوئی جرم ثابت ہو، ان پر عدالتوں میں باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔
خبر کا کوڈ : 793656
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے