0
Saturday 11 May 2019 22:46

جان کیری جاسوس ہے، ٹرمپ کا الزام

جان کیری جاسوس ہے، ٹرمپ کا الزام
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر مزید ضبط نہ کرسکے اور اپنی ایک نیوز کانفرنس کے دوران وہ راز اُگل بیٹھے، جو اسلامی جمہوریہ ایران پر تازہ عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں میں چھپا تھا۔ دراصل امریکی صدر اور ان کی ایران مخالف مشاورتی ٹیم گذشتہ سال سے جوہری معاہدے کو یکطرفہ طور پر ترک اور ایران پر اپنی تاریخ کی بدترین پابندیاں عائد کرکے اور آخرکار زور زبردستی اور دھونس دھمکی کے استعمال سے اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ ایران بھی شمالی کوریا کی طرح شدید اقتصادی مشکلات کے مقابلے میں امریکی حکام سے گفتگو کے لئے رابطہ برقرار کر لے گا اور یوں امریکی حکام کو مذاکرات کے ماحول میں فاتحانہ بیانات دینے کا ایک اور موقع مل جاتا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ایران پر اتنا دباؤ ڈالا گیا ہے کہ اسے شمالی کوریا کے سربراہ کی طرح مجھے مذاکرات کے لئے فون کرنا چاہئے تھا، تاکہ اس اقتصادی دباؤ سے باہر نکل آئے، لیکن یہ "جان کیری" ہے جو تہران فون کرکے کہتا ہے کہ میری (ٹرمپ کی) حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کریں اور یہ "جان کیری" ہی ہے، جو انہیں مزید مزاحمت کا رستہ دکھا رہا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے سابقہ امریکی وزیر خارجہ "جان کیری" کو جاسوس قرار دیتے ہوئے "لاء آف لوگن" کے ذریعے ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے جبکہ جان کیری نے امریکی صدر کے اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ بےبنیاد ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے ردعمل میں صرف یہی کہنے پر اکتفاء کیا ہے کہ "ٹرمپ سراسر غطلی پر ہیں اور بس"۔ جان کیری کے ترجمان نے بھی امریکی نیوز چینل "سی این این" کو انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج صدر ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے، سراسر غلط ہے اور بس۔

دوسری طرف ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن اور اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر مجید روانچی نے بھی ایک امریکی نیوز چینل "این بی سی" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیسے ایک ایسے فریق کی بات پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، جو خود مذاکرات کو ترک کرچکا ہو اور ہمیشہ جھوٹی اطلاعات منتشر کرتا رہتا ہو؟ انٹرویو کے دوران مجید روانچی نے "این بی سی" کے اینکر پرسن کے اس سوال پر کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں، لیکن کہتے ہیں جان کیری نے ایرانیوں کو امریکہ کے ساتھ گفتگو کرنے سے منع کر رکھا ہے، کہا کہ یہ بھی ایک ایسا نیا موضوع ہے، جو امریکی صدر ٹرمپ نے ہی چھیڑا ہے، وہ تو پہلے بھی ایسا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر مجید روانچی نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دراصل کسی اور حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور وہ یہ کہ جو کچھ وہ ایران سے چاہتے ہیں، وہ ایران کے جوہری پروگرام پر کنٹرول یا ایران کے جوہری ہتھیاروں تک عدم رسائی نہیں، ورنہ یہ مقاصد تو ایرانی جوہری معاہدے سے بھی حاصل ہوچکے تھے، جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کمیشن کی 14 رپورٹس بھی یہی بتاتی ہیں اور اس کے علاوہ جوہری معاہدے کے طے پانے سے لے کر تاحال آنے والی تمام رپورٹس بھی یہی ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی واضح طور پر اقوام متحدہ میں کہہ چکے ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار بنانے اور پھیلانے میں دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے یہ فتویٰ دے رکھا ہے کہ اسلام میں ایٹمی ہتھیار حرام ہیں۔
خبر کا کوڈ : 793689
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب