0
Monday 13 May 2019 21:46
حکومت امریکہ کی بجائے اپنے ملک کا مفاد ملحوظ خاطر رکھے

پاک ایران گیس منصوبے سے پسپائی ہمارے لئے باعث شرمندگی ہوگا، اعجاز ہاشمی

پاک ایران گیس منصوبے سے پسپائی ہمارے لئے باعث شرمندگی ہوگا، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز ہاشمی نے حکومت کی طرف سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے امریکی پابندیوں کے باعث انحراف کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک ایران ہمیں بجلی اور گیس کی سہولت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے، لیکن حکومت امریکی غلامی میں کسی بھی جرائتمندانہ اقدام سے ہچکچا رہی ہے، جو کہ قوم کیلئے باعث شرمندگی ہے۔ واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان ہمت کرے اور چین، بھارت اور روس کی طرح امریکی پابندیاں مسترد کرکے ایران سے تجارتی تعلقات قائم کرے اور پاک گیس پائپ لائن شروع کرے، یہ ہماری ضرورت ہے، امریکہ دنیا کا بدمعاش بن کر عالمی برادری کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں سے تو پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت بہتر تھی جس نے اس منصوبے پر نہ صرف دستخط کئے بلکہ اس کا آغاز بھی کر دیا تھا۔

لاہور میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے پیر اعجاز ہاشمی نے یاد دلایا کہ ایران پاکستان کو سب سے پہلے قبول کرنیوالا اسلامی ملک ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب اس نے ہر مشکل موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ گیس پائپ لائن منصوبے پر عملدرآمد ایران کیساتھ ہونیوالے معاہدوں کا حصہ ہے۔ اگر ہم امریکی پابندیوں کے خوف سے بزدلی دکھاتے رہے تو ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو اس وقت کے حکمرانوں کو امریکی غلامی کے طعنے دیا کرتے تھے۔ اب جب وزیراعظم بنے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ امریکی غلامی کے طوق کو اتار پھینکیں اور پہلے جس طرح سے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں گیس پائپ لائن منصوبے پر پیشرفت ہوئی تھی اسی طرح سے اس کو دوبارہ شروع کیا جانا چاہئے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آئندہ کوئی بھی ملک پاکستان کیساتھ معاہدے کرنے کی ہمت نہیں کرے گا اور دنیا عالمی برادری کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان امریکی دباو میں اپنے فیصلوں سے پسپائی اختیار کر لیتا ہے جو کہ بحیثیت قوم ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران تو اپنے بارڈر تک پائپ لائن بچھا چکا ہے، جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان کے اندر پائپ لائن بچھانے کے لیے قرض دینے کو بھی تیار ہے۔ اگر ہم قرض کے لیے چین ،سعودی عرب اور دوسرے ممالک سے بھیک مانگ رہے ہیں تواپنے برادر اسلامی ملک سے کیوں نہیں لے سکتے؟
خبر کا کوڈ : 793878
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب