0
Tuesday 14 May 2019 13:28

جنوبی پنجاب کے نام سے حکومتی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں، سرائیکی قوم کیلئے یہ لفظ ایک گالی ہے، سرائیکستان صوبہ محاذ

جنوبی پنجاب کے نام سے حکومتی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں، سرائیکی قوم کیلئے یہ لفظ ایک گالی ہے، سرائیکستان صوبہ محاذ
اسلام ٹائمز۔ موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کرنے کیلئے سرائیکستان صوبہ محاذ کا اجلاس جھوک سرائیکی دولت گیٹ ملتان میں منعقد ہوا، صدارت محاذ کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ نے کی، اجلاس میں دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ظہور دھریجہ، مہر مظہر کات، اجالا لنگاہ، شریف خان لشاری، پروفیسر سجاد ملک، مخدوم اکبر ہاشمی، فادر یونس عالم، مسیح اللہ خان جام پوری، حاجی احمد نواز سومرو، ملک جاوید اقبال چنڑ، سلطان خان کلاچی، اسد خان بلوچ، احمد خان گوپانگ، محمد بخش میراٹھا، مختیار خان لنگاہ، دیوانہ بلوچ، سردار کامران خان مگسی، عامر خان درانی، صغیر احمدانی، ارسلان خان سہرانی، افضال بٹ، حاجی عید احمد دھریجہ، افضل ندیم افضل، ظفر جھنڈیر، لیاقت قریشی، ایاز محمود دھریجہ، معیز بھٹہ، اجمل دھریجہ، شریف بھٹہ، سلطان محمود دھریجہ، شبیر بلوچ، صوبیہ ملک، حامد فریدی و دیگر نے شرکت کی۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے شریک چیئرمین ظہور دھریجہ نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے سرائیکی رہنمائوں نے کہا کہ سب سے پہلے حکمران نیک نیتی کے ساتھ سرائیکی وسیب کی الگ شناخت سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، پنجابیوں اور پاکستان میں بسنے والے دیگر اقوام کی طرح سرائیکی کو بھی الگ قومیت کے طور پر تسلیم کریں۔ جنوبی پنجاب کے نام سے حکومتی بیانیہ کو مسترد کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ سرائیکی قوم کیلئے یہ لفظ ایک گالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور عثمان بزدار کے پاس مینڈیٹ سرائیکی وسیب کا ہے لیکن آج تک ان کی زبان سے لفظ سرائیکی ادا نہیں ہوا۔ یہ ووٹ وسیب سے لیتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں منظور پشین اور ایسے افراد کیساتھ ہیں جو پاکستان کی سالمیت پر یقین نہیں رکھتے۔

سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ ہم سب سول سیکرٹریٹ یا کسی بھی ترقیاتی منصوبے کیخلاف نہیں لیکن وسیب سے صوبے کا وعدہ ہوا ہے۔ وسیب کے لوگوں کو لولی پاپ دینا بند کئے جائیں اور سرائیکی وسیب کے لوگوں کو بنگالیوں کی طرح دیوار سے لگانے کی پالیسی ختم کی جائے۔ وسیب کے لوگوں کو وفاق پاکستان میں اسی طرح کا صوبہ اور اکائی دی جائے جس طرح کہ دوسری اکائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں انتظامی صوبے کی کوئی گنجائش نہیں۔ وسیب کے لوگوں سے مذاق بند کیا جائے اور آئینی طور پر وسیب کے لوگوں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو دوسرے صوبوں کو حاصل ہیں۔ سرائیکی رہنمائوں نے کہا کہ سب سول سیکرٹریٹ کے نام پر بھی مذاق کیا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 794162
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب