0
Wednesday 15 May 2019 20:23

سرکاری ملازمین کی طرح خطیب اور آئمہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، ضیاالحق نقشبندی

سرکاری ملازمین کی طرح خطیب اور آئمہ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، ضیاالحق نقشبندی
اسلام ٹائمز۔ تنظیم اتحاد امت پاکستان کے چیئرمین پیر ضیاءالحق نقشبندی نے 50 سے زائد مفتیان کرام اور علماء کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے جس طرح ہر سال بجٹ میں عام مزدور کی تنخواہ کا تعین کیا جاتا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں، اسی طرح حکومت وقت سال 2019 اور 2020 کے بجٹ میں پرائیویٹ مساجد کے امام و خطیب اور موذن کی تنخواہ کا بھی تعین کرے۔ امام و خطیب کم از کم 25 ہزار، موذن کی 20 ہزار اور خادم کی 18 ہزار تنخواہ مقرر کی جائے اور بجٹ کے بعد انتظامیہ مساجد امام و خطیب اور موذن کی تنخواہ اعلان کے مطابق نہیں کرتیں تو ایسی مساجد انتظامیہ کیخلاف حکومت قانونی کارروائی کرے۔ حکومت امام و خطیب کی تنخواہیں اور مراعات 12 گریڈ سے لیکر 20 گریڈ کے برابر کرے، اس سے سوسائٹی کا دینی معیار بلند ہوگا، حکومت امام و خطیب سے تحریری معاہدہ اور ہر ماہ چار چھٹیوں کی سہولت کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر قانون سازی کرے۔

انہوں نے کہا کہ مساجد کے واپڈا بلوں میں ٹی وی ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے، محکمہ اوقاف و مذھبی امور آئمہ خطباء مدرسین موذنین خدام کواپ گریڈ کیا جائے، کئی سالوں سے اگلے سکیل میں پوسٹیں خالی ہونے کے باوجود محکمانہ پروموشن نہیں کی گئی، 2011 میں ریگولر ہونے والے ملازمین کی ابھی تک سنیارٹی لسٹ مرتب نہیں کی گئی، محکمہ اوقاف میں براہ راست بھرتی کیلئے %30 کوٹہ جبکہ محکمانہ پرموشن کیلئے %70 کوٹہ مقرر کیا جائے، وفاقی وزارت مذھبی امور کی طرح ہر مسجد کا بنیادی سکیل 12 مقرر کیا جائے، آئمہ خطباء کو پلاٹ دیئے جائیں، علمائے کرام کا بنیادی سکیل تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے کم از کم 16 کیا جائے۔ فرقہ واریت، خارجیت، تکفیریت، لاقانونیت، بدنظمی، عصبیت پر مبنی نعرے بازی، تنگ نظری، انتہا پسندی، دہشت گردوں کی معاونت و سہولت کاری اور مذہبی جذبات بھڑکانے والے امام وخطیب کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

پریس کانفرنس میں مفتی حسنین رضا، مفتی محمد قیصر شہزاد نعیمی، مفتی شہباز سیفی، مفتی مسعودالرحمن، علامہ میر آصف اکبر، مولانا محمد علی نقشبندی، مفتی محمد ندیم قمر، مفتی محمد عمر، مفتی شفقت یوسفی، مفتی محمد صدیق قادری، مفتی نعیم احمد صابری، مفتی شاہد محمود مدنی، مفتی محمد جاوید ہاشمی، علامہ محمد طاہر شریف، قاری غلام حسین نقشبندی، مولانا زبیر احمد شاہ، مولانا محمد ابوالخیر محمد زوار حسین، مولانا قاری شکیل احمد، مولانا محمد خلیل حنفی، مولانا قاری محمد ادریس شاہ، مولانا افتخار احمد، مولانا محمد وسیم حیدر قادری، مولانا ذیشان علی ہجویری، مولانا محبوب حسین، مولانا محمد اختر رضا قادری، مولانا ذیشان صابری، مولانا کبیر احمد، مولانا حافظ زاہد حسین اور دیگر شریک تھے۔

پیر محمد ضیاءالحق نقشبندی نے مساجد انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ امام و خطیب کی عزت نفس خود مجروح کریں اور نہ ہی کسی دوسرے کو جرات ہونے دیں۔ رنگ و روغن، لائٹوں، میناروں اور دیگر بنیادی ضروریات پر ایک حد سے زیادہ خرچہ نہ کریں، مساجد کے ساتھ کسی ہال کو خواتین کیلئے مختص کریں، مساجد انتظامیہ خواتین اور بچوں کیلئے خصوصی تقریبات کا اہتمام کرے۔ ضعیف نمازیوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کریں۔ اوقاف کے امام و خطیب کی جگہ کوئی اور نماز پڑھا رہا ہو تو اس کی اطلاع محکمہ کو دیں۔ امام و خطیب سے توقعات میں توازن رکھیں کیونکہ وہ انسان ہے، فرشتہ تو نہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی فرماتے ہیں (القطب قدیزنی) قطب وقت سے بھی گناہ کبیرہ کا ہونا ممکن ہے۔ انہوں نے خواتین و مرد سے ماہانہ اپنی آمدن کا ایک فیصد حصہ مساجد کو دینے کی گزارش کی، اہل محلہ کسی شخص کو محض مالدار یا ناموری کی بناء پر رکن انتظامیہ کی اہم ذمہ داری نہ سونپیں، بلکہ علم وتقویٰ، ذمہ دارانہ رویہ اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو معیار بنائیں۔ امام و خطیب کی اکثریت کے بچے اچھے لباس، معیاری تعلیم، دودھ، دہی، پھل، سیروتفریح، ذاتی گاڑی، ادویات و دیگر بنیادی ضروریات کو ترستے ہیں۔ لیکن ان کے کام کا معیار اور ان کا ذاتی وقار دیکھیں کہ کبھی نہ تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ، نہ آج تک بھوک ہڑتال کی دھمکی۔ کبھی سوچیں جو سہولیات آپ کے لخت جگر کو ہیں، ان کی اولاد کو کیوں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ چاند عید کے مسئلہ پر ہمیشہ گورنمنٹ کے اعلان کو ترجیح دیں اور اس کی تشہیر کریں آپ کے علم میں ہونا چاہیئے غیر سرکاری اعلان پر خطیب کو ایک سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 794435
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب