0
Thursday 16 May 2019 02:37

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات زہرقاتل جبکہ قوم کا حتمی انتخاب مزاحمت ہے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات زہرقاتل جبکہ قوم کا حتمی انتخاب مزاحمت ہے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز - اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے منگل کے روز ایرانی نظام حکومت کے عہدیداروں اور حکومتی اہلکاروں کے ساتھ اپنے خطاب کے دوران "خوف خدا" اپنانے کی ضرورت، خاص طور پر عوامی مسائل کے حوالے سے، بیت المال کا خاص خیال رکھنے اور اشرافیت سے اجتناب کرنے پر تاکید کرتے ہوئے اقتصادی مسائل کے حل اور ملکی پیداوار کے بڑھانے سے متعلق، مملکت کے تینوں ستونوں (حکومت، عدلیہ اور فوج) کی بنیادی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کے "حکومتی اہلکاروں کے حساب کتاب میں تبدیلی اور انہیں اپنے سامنے جھکانے" اور "عوام کو حکومتی نظام سے دور کرنے" کیلئے اٹھائے گئے مذموم امریکی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے مقابلے میں ایرانی قوم کا تمامتر میدانوں میں حتمی انتخاب  "مزاحمت" ہے کیونکہ موجودہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھنا زہرِقاتل ہے جبکہ جنگ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ، ارادوں کی جنگ ہے جبکہ ایرانی قوم اور اسلامی نظام کا ارادہ، دشمن کے ارادے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے لہذا خدا کے فضل سے اس مرتبہ بھی ہم ہی جیتیں گے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جوان نسل پر اعتماد اور ان کے جذبے کی حفاظت پر تاکید کرتے ہوئے "اپنے ہدف کے عین اوپر لگنے والے" ایرانی بیلسٹک اور 2000 کلومیٹر رینج تک کے کروز میزائلوں کی قابل تحسین صنعت کو ایماندار، متحرک اور انتھک جوانوں پر اعتماد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جب یورینیم کی 20 فیصد افزودگی اور ملکی جوہری طبی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری جوانوں کے سپرد کی تو انہوں نے بہت سے لوگوں کی بےیقینی کی کیفیت کے باوجود کام مکمل کر کے دکھایا۔

انہوں نے ملکی حالات کو درست کرنے کی خاطر بیرونی طاقتوں پر نظریں جما کر بیٹھ جانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیروں پر امید لگا کر بیٹھ جانے سے ملک کو دھچکا لگتا ہے جس کا ایک نمونہ ہمارے ملک کو جوہری معاہدے (JCPOA) کے حوالے سے یورپی ممالک سے توقعات وابستہ کرنے کی وجہ سے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یورپی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں لیکن انہوں نے آج تک اپنے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا اور آئندہ بھی نہیں کریں گے جبکہ وہ ہمیشہ وعدوں پر عمل کرنے کے دعوے کرتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے کہ ہم جوہری معاہدے (JCPOA) کے پابند ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے موجودہ صورتحال میں پہلے سے طے شدہ امریکی منصوبے کے بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تمامتر کوششیں اس مقصد کے لئے صرف کر دی ہیں کہ شدید اقتصادی دباؤ کے ذریعے سب سے پہلے تو ہمارے حکومتی عہدیداروں کے حساب کتاب یوں بدلیں کہ وہ خود بخود شکست قبول کر لیں اور دوسرے یہ کہ عوام کو (اسلامی جمہوری) نظام کے مقابلے پر لے آئیں۔ انہوں نے امریکی حساب کتاب کو گزشتہ 40 سالوں کی طرح غلط قرار دیتے ہوئے، جو انہیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچا سکتا، کہا کہ امریکی اس مرتبہ بھی شکست کھائیں گے جبکہ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومتی عہدیدار اسلامی جمہوریہ (ایران) کے ساتھ اپنے بغض اور کینے کی وجہ سے اندھے ہو چکے ہیں لہذا وہ حالات کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔

ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے امریکی حکومت کے ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ کئے گئے برتاؤ کی بہت سے امریکی ماہرین کی طرف سے مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی حکومتی عہدیدار بہت سے مسائل اور خصوصا اسلامی جمہوریہ (ایران) کے بارے واقعا کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکہ کی ظاہری ہیبت، گیدڑ بھبکیوں اور شورشرابے سے مبادا کوئی ڈرے، کہا کہ بڑی طاقتیں اپنے منصوبوں کو معمولا دھمکیوں اور شورشرابے کے ساتھ عملی جامہ پہناتی ہیں جبکہ ان دھمکیوں کے سامنے اپنے موقف سے ذرا سا بھی ہٹنا ایک غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے علاوہ خطے میں موجود قارونوں کی اندھی دولت سے نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ وہ کوئی غلطی کرنے کے قابل نہیں!

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل 1978ء میں اب سے کہیں زیادہ طاقتور تھا جبکہ اُس زمانے کا امریکی صدر کارٹر بھی موجودہ امریکی صدر کے مقابلے میں زیادہ عقلمند اور زیادہ طاقتور تھا اور (شاہِ ایران) محمد رضا بھی ان کی طرف سے تمام ملکی امور پر مسلط کیا گیا تھا اور مکمل طور پر ان کے تابع تھا لیکن تب بھی ایرانی قوم نے خالی ہاتھوں امریکہ کو شکست دی جبکہ آج کے انقلابی جوان 1978ء کے انقلابی جوانوں سے کسی طور کم نہیں اور اِن جوانوں کی سوچ اُس دور کے انقلابی جوانوں سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ وہ زیادہ آشکار ہوئی ہے کہا کہ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ جو گرجتا ہے برستا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ آشکار دشمنی کے علاوہ کسی بھی امریکی حکومت سے بڑھ کر اسرائیل کی خدمت میں جٹی ہوئی ہے یعنی آج امریکہ کی زیادہ تر سیاست صیہونیوں کے ہاتھوں میں ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر سمیت دوسرے حکومتی اہلکاروں کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہ امریکی سیاست کی وجہ سے ایران میں تبدیلی آئی ہے، کہا کہ جی ہاں! ایران میں تبدیلی آئی ہے اور وہ یہ کہ یہاں کی عوام کی امریکہ سے نفرت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مفاد کا دشمن کی دسترسی سے باہر نکل جانے، جوانوں کے ہمت و حوصلے اور ملکی سلامتی کی طاقت میں اضافے کو اس عرصے میں آنے والی دوسری تبدیلیاں قرار دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ امریکیوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف حقائق سے بہت دور ہیں بلکہ ان کا حساب کتاب بھی غلط ہے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے ان امریکی بیانات کو ان کی حد درجے کی بیوقوفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا صدر کہتا ہے کہ جب سے میں (حکومت میں) آیا ہوں ہر جمعے کو ایران میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں، اس شخص کو کوئی بتائے کہ اولا یہ کہ ہر جمعے کو نہیں بلکہ ہر ہفتے کو اور ثانیا یہ کہ تہران میں نہیں بلکہ پیرس میں! انہوں نے امریکہ کی بڑی اندرونی اجتماعی و اقتصادی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نکات عام طور پر توجہ میں نہیں آتے لیکن امریکہ کے اجتماعی مسائل اور وہاں کی حکومت کے درمیان پایا جانے والا تضاد اور ہرج و مرج کی کیفیت ایک ایسی حقیقت ہے جو دشمن کی اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے امریکی حکومتی اعداد و شمار، جن کے مطابق امریکہ میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں، وہاں پیدا ہونے والے 40 فیصد بچے ناجائز ہیں، وہاں کی جیلوں میں 22 لاکھ سے زائد قیدی ہیں (جو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دنیا کی سب سے زیادہ تعداد ہے)، وہاں دنیا کی سب سے زیادہ منشیات استعمال کی جاتی ہے اور دنیا میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کا 31 فیصد وہاں وقوع پذیر ہوتا ہے، کو امریکہ کی حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبادا کوئی امریکہ کو بہت عظیم، پرہیبت اور خطرناک ظاہر کرے البتہ دشمن کی دشمنی سے غفلت بھی نہیں برتنا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اس جیسی بےشمار مشکلات میں گرفتار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اندرونی مشکلات کے علاوہ امریکہ کی غلط سیاست، سیاسی اور سلامتی کے میدانوں میں بھی اس کے لئے نقصان کا سبب رہی ہے جبکہ نہ صرف یہ کہ اس خطے میں یورپ اور بعض علاقائی طاقتوں نے اُسے مزید مشکلات سے دچار کر دیا ہے بلکہ خطے میں ان کا 7 بلین ڈالرز کا بجٹ بھی حسب سابق جاری اور بلانتیجہ ہے گو کہ ان کا ہاتھ سعودی عرب کی جیب میں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بعض امریکی ماہرین کے اس انتباہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حد سے زیادہ امریکی دباؤ ایران کے معاشی طور پر مضبوط ہونے کا سبب بنے گا، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایرانی قوم اور اسلامی نظام کے روزافزوں استحکام کے مقابلے میں حتمی طور پر شکست سے دچار ہو گا۔ انہوں نے بعض لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو کہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں حرج ہی کیا ہے! کہا کہ بقول حضرت امام خمینیؒ کہ جب تک امریکہ انسان نہیں بن جاتا، اس کے ساتھ مذاکرات کرنا زہرقاتل ہے؛ اس موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھنا زہرقاتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا حقیقی معنی معاملہ کرنا ہے جس میں کچھ دیا اور کچھ لیا جاتا ہے جبکہ وہ اس معاملے میں ایران کی قوت چھین لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ایرانی میزائلوں کے بارے میں مذاکرات کریں۔ ان کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے میزائلوں کی رینج اور ایکوریسی کو کم کریں تاکہ اگر کسی دن ہم نے آپ کو نشانہ بنایا تو آپ ہمیں جواب دینے کے قابل نہ ہوں البتہ یہ بھی ظاہر ہے کہ ایران کے اندر کوئی اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں لہذا (بین الاقوامی سطح پر) شور شرابہ تو ہوتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیاست و سلامتی کے لحاظ سے ہر ملک کے لئے اس کی سٹریٹجک گہرائی (Strategic Depth) اس کی زندگی و موت کا مسئلہ ہوتا ہے اسی طرح خطے میں ہماری سٹریٹجک گہرائی بھی ہمارے لئے انتہائی اہم ہے جبکہ وہ اس مسئلے سے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم اپنی بہترین سٹریٹجک ڈیپتھ پر ان کے ساتھ معاملہ کر لیں! کیا یہ بات کوئی قبول کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ بنابرایں ان موضوعات پر تو کسی باشعور فریق کے ساتھ بھی مذاکرات کرنا غلط ہے چہ جائیکہ امریکہ! ان (امریکیوں) کے ساتھ مذاکرات کرنا جو اخلاق، قانون اور بین الاقوامی قول و قرار جیسی کسی چیز کو نہیں جانتے، کسی مذاق سے بڑھ کر کوئی معنی نہیں رکھتا۔


 
خبر کا کوڈ : 794468
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب