0
Thursday 16 May 2019 21:46

جنوبی پنجاب نامنظور، ڈی آئی خان، ٹانک، میانوالی، بھکر اور جھنگ کے بغیر کوئی صوبہ قبول نہیں کرینگے، سرائیکستان صوبہ محاذ

جنوبی پنجاب نامنظور، ڈی آئی خان، ٹانک، میانوالی، بھکر اور جھنگ کے بغیر کوئی صوبہ قبول نہیں کرینگے، سرائیکستان صوبہ محاذ
اسلام ٹائمز۔ سرائیکستان صوبہ محاذ کے شریک چیئرمین ظہور دھریجہ، مہر مظہر کات، شریف خان لشاری اور بھکر کے صدر محمد خان بلوچ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  عمران خان اور مخدوم شاہ محمود قریشی صوبہ بننے سے پہلے وسیب کو بے شناخت اور لولہا لنگڑا کرنے کی کوشش نہ کریں، سرائیکی صوبے کے نام پر لولی پاپ کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ فاٹا کی شمولیت کے بعد خیبر پختونخوا کی حدود اور نشستوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، ضروری ہے کہ نئے سیٹ اَپ کے تحت ٹانک اور ڈی آئی خان کو سرائیکی وسیب کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطے کی شناخت روہی تھل دامان کے حوالے سے ہے، دامان ڈی آئی خان ہے، تھل بھکر، میانوالی، خوشاب اور جھنگ ہے، روہی سابق ریاست بہاولپور ہے، ایک سازش کے تحت یہ تینوں خطے سرائیکی صوبے سے آئوٹ کئے جا رہے ہیں، جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔

ظہور دھریجہ نے کہا کہ قوموں کے وطن ہوتے ہیں، اُن کی تہذیب اور ثقافت ہوتی ہے مگر ایک سازش کے تحت طارق بشیر چیمہ اور نواز لیگ وسیب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کے در پہ ہیں، لاہور کی ایک رکن قومی اسمبلی کی طرف سے بہاولپور صوبے کی قرارداد کس مقصد کے تحت پیش ہوئی؟ اسے سب جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وسیب کے لوگوں نے وسیب دشمن محمد علی درانی کو شکست دے کر لاہور بھیجا ہے، اسی طرح (ن) لیگ اور طارق بشیر چیمہ جیسے وسیب دشمن بھی عبرتناک شکست سے دو چار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میانوالی کالا باغ ڈیم اور جھنگ کا ہیڈ تریمو پورے وسیب کو سیراب کرتے ہیں، ہم کسی بھی صورت اپنے وسیب اور اپنے پانی کے وسائل سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وسیب کے جاگیردار سیاستدان لاہور میں پیدا ہوئے، اُن کو لاہور کی گلیوں کا تو علم ہے، وہ وسیب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، یہ جاگیردار ہمیشہ غیروں کے آلہ کار رہے، یہ ہمیشہ اقتدار کے مراکز کا طواف کرتے ہیں اور ہر چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں۔ ان کی نہ کوئی اپنی سوچ ہے، نہ نظریہ، نہ ہی زبان، یہ خود نہیں بولتے بلکہ یہ وہ کچھ بولتے ہیں جو ان سے بلوایا جاتا ہے۔ ہم وسیب کے کروڑوں افراد کی قسمت کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے۔ البتہ یہ میرٹ پر اور وسیب کے حقوق کے بارے میں کردار ادا کریں گے تو ہم ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔
خبر کا کوڈ : 794673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے