0
Saturday 18 May 2019 08:20

غلط معلومات اور غلط فیصلے

غلط معلومات اور غلط فیصلے
اداریہ
دنیا میں خفیہ ایجنسیوں کا کردار ماضی میں بھی اہم تھا اور آج بھی کسی ملک کی خفیہ ایجنسی کو اس ملک کی آنکھ، ناک اور کان تصور کیا جاتا ہے۔ ملکی حکام خفیہ ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں حساس نوعیت کے فیصلے کرتے ہیں، اگر یہ معلومات ناپختہ یا غلط اطلاعات پر استوار ہوں تو ان معلومات پر کئے گئے فیصلے بھی برعکس نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کی دنیا میں اب بہت زیادہ وسعت آگئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے خفیہ معلومات کے حصول کو بہت آسان بنا دیا ہے، سامراجی طاقتیں ایک کمرے مییں بیٹھ کر سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، جدید مواصلاتی نظام، ای میلز سمیت انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ وغیرہ کے ذریعے خفیہ ترین معلومات آسانی سے حاصل کرسکتی ہیں۔ جدید دنیا میں خفیہ معلومات کی تصدیق بھی ماضی کے مقابلے میں آسان ہوگئی ہے، لیکن آج کل بڑی مشکل یہ ہوگئی ہے کہ بڑی طاقتیں صحیح معلومات کا علم رکھنے کے باوجود اپنے مذموم اہداف کے حصول کے لئے صحیح معلومات کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہیں کہ اصل حقائق پیچ در پیچ توجیہات میں گم ہو جاتے ہیں۔

ماضی کی بہت سے مثالیں ایسی ہیں کہ بڑی طاقتوں کو اصل حقائق کا علم تھا، لیکن رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے لئے جعلی معلومات سامنے لا کر ان کو دھوکہ دیا گیا۔ مثال کے طور پر عراق پر حملے کی سب سے بڑی وجہ صدام کے پاس عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی قرار دیا گیا تھا، حالانکہ امریکہ اور برطانیہ کے پاس حقییقی معلومات تھیں، لیکن جھوٹ اور کذب کو سامنے لا کر عراق پر جارحیت کا ارتکاب کیا گیا۔ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی امریکہ کے پاس حقیقی معلومات ہیں اور ایٹمی توانائی کا عالمی ادارہ بھی جس میں امریکی انٹیلی جنس کے بالواسطہ اور بلاواسطہ ایجنٹ موجود ہیں، اپنی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی قسم کا انحراف نہیں، لیکن امریکہ بہادر کے ایران مخالف صدر اور ان کی جنگ پسند کابینہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

اسی تناطر میں امریکی ایوان نمائندگان میں اس ملک کی انٹیلی جنس کمیٹی، خارجہ کمیٹی اور مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہوں نے اس ملک کے وزیر خارجہ مائیک پمپیئو کو ایک خط لکھ کر ایران کے بارے میں انٹیلی جنس ڈیٹا اعداد و شمار و معلومات کو سیاسی بنانے اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بارے خبردار کیا ہے۔ اس خط میں واضح طور پر آیا ہے کہ ایران کے بارے میں معلومات کو سیاسی بنا کر اپنے من پسند مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے مذکورہ اداروں کے انتباہ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی عقلاء، تھنک ٹینک اور حقیقت پسند حلقے ٹرمپ کی موجودہ ٹیم کے تخریبی رویئے کو سمجھ چکے ہیں۔ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا اور ایرانو فوبیا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور اسی تخریبی رویئے کی وجہ سے خطے کو جنگ میں دھکیلنے کی سازشیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ غلط معلومات اور غلط اندازوں کی بنیاد پر جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، اس کا نتیجہ بھی برعکس ثابت ہوگا۔ امریکہ غلط اندازوں کی بنیاد پر ایران کے اسلامی انقلاب کے حوالے سے گذشتہ چالیس برسوں میں غلط فیصلے کرکے مسلسل شکست سے دوچار ہے، اگر امریکہ کا یہ رویہ مستقبل میں جاری رہا تو مزید ناکامیاں امریکہ کا مقدر ٹھہریں گی۔
خبر کا کوڈ : 794877
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب