0
Sunday 19 May 2019 02:18

جی بی آرڈر 2019ء میں ترمیم سے متعلق ایکٹ کا مسودہ سپریم کورٹ میں پیش

جی بی آرڈر 2019ء میں ترمیم سے متعلق ایکٹ کا مسودہ سپریم کورٹ میں پیش
اسلام ٹائمز۔ وفاقی حکومت نے جی بی آرڈر 2019ء سے متعلق ایکٹ کا مسودہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کر دیا ہے جس میں سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ختم کرنے، آرڈر میں سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر ترمیم اور اپیلٹ کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے سمیت 15ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ مسودہ کے مطابق ایکٹ کا نام ''گلگت بلتستان گورننس ریفارمز ایکٹ 2019ء'' ہو گا، آرڈر 2019ء کی تمہید (ابتدائیہ) میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ ایکٹ کی تمہید میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی، انتظامی اور عدالتی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تا کہ یہ خطہ دوسرے صوبوں کے برابر آ سکے، ایکٹ کے مسودہ میں آرڈر 2019ء کا اہم ترین آرٹیکل (3)103 اور (2)103 جس میں سپریم اپیلیٹ کورٹ اور چیف کورٹ کے فیصلوں کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا تھا، اس شق کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب گلگت بلتستان کے عوام کو سپریم کورٹ میں اپیل کا حق نہیں ہو گا، یوں خطہ میں سپریم کورٹ کا دائرہ کار بھی ختم ہو جائے گا۔ ایکٹ کے مسودے میں جوڈیشل آرڈر کے آرٹیکل 124 کو بھی ختم کیا گیا ہے، اس آرٹیکل کے تحت آرڈر میں کسی بھی ترمیم سے قبل سپریم کورٹ کی منظوری لازمی قرار دی گئی تھی۔ مسودہ ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت یا وزارت امور کشمیر جب چاہے آرڈر میں ترمیم کر سکے گی۔

آرڈر کے آرٹیکل 82/3 کے تحت سپریم اپیلٹ کورٹ میں چیف جج سمیت 3 ججز ہوتے تھے، مسودہ ایکٹ میں ججز کی تعداد چار کر دی گئی ہے، اپیلٹ کورٹ ایک چیف جج اورتین ججوں پر مشتمل ہو گی، آرٹیکل 82/7 کے تحت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کیلئے اپیلٹ کورٹ میں جج بننے کیلئے 70 سال تک کی رعایت دی گئی تھی، ایکٹ کے تحت یہ رعایت ختم ہو گی، اب ججز کیلئے عمر کی حد 65 سال ہی ہو گی، آرڈر کے تحت قائم جوڈیشل کمیشن میں بھی رد و بدل کیا گیا ہے، مسودہ ایکٹ میں جوڈیشل کمیشن میں چیف کورٹ بار کی نمائندگی ختم کر کے صوبائی ایڈووکیٹ جنرل کو لگا دیا گیا ہے جبکہ آرڈر 2019ء کے تحت جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کا ایک ریٹائرڈ جج ہونا تھا اس جج کی تقرری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کرنا تھی لیکن مسودہ ایکٹ میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی جگہ اب سپریم اپیلیٹ کورٹ کا سابق جج ہوگا اور اس کی تقرری چیف جج کرینگے، یوں جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کا کوئی کردار نہیں ہو گا، آرڈر کے آرٹیکل(2) 94 کے تحت چیف کورٹ کو حکومت کیخلاف رٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل تھا، مسودہ ایکٹ میں یہ اختیار ختم کیا گیا ہے، اب حکومت کا کوئی بھی اقدام چیف کورٹ میں چیلنج نہیں ہو سکے گا۔

مسودے کے تحت چیف کورٹ کا صوبائی حکومت کیخلاف رٹ بھی ختم کر دی گئی ہے، مسودہ ایکٹ میں آرڈر کے شیڈول فور کے تحت وفاق اور جی بی کیلئے افسران کے کوٹے میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، مسودہ ایکٹ میں گریڈ 17 میں وفاقی افسران کا کوٹہ کم کر کے 25 سے 18 فیصد کر دی گیا ہے، اسی طرح گریڈ 18 میں وفاق کا کوٹہ 30 فیصد ہو گا، پہلے 40 فیصد تھا، گریڈ 19 میں کوٹہ 50 سے 40، گریڈ 20 میں 60 سے 50، اور گریڈ 21 میں وفاقی افسران کا کوٹہ 65 فیصد سے کم کر کے 60 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مسودہ ایکٹ میں قانون ساز اسمبلی کا نام تبدیل کر کے گلگت بلتستان اسمبلی تجویز کی گئی ہے، جوڈیشل آرڈر کی شق 49 کے تحت مجرمان کی سزا معاف یا تخفیف کرنے کااختیار چیئرمین کونسل (وزیر اعظم) کو حاصل تھا مسودہ ایکٹ میں یہ اختیار صدر پاکستان کو دیا گیا ہے، آرڈر کے آرٹیکل 55 میں کسی بھی معاملے پر کونسل اور اسمبلی اگر یکساں قانون سازی کرے تو اس صورت میں کونسل کی قانون سازی کو فوقیت دی گئی تھی لیکن ایکٹ میں اس شق کو ختم کیا گیا ہے، اب اسمبلی اور کونسل تفویض کردہ دائرہ کار میں ہی قانون سازی کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 795072
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب