0
Tuesday 21 May 2019 11:59

اسلام آباد، 11 سالہ معصوم فرشتہ کی مسخ شدہ نعش برآمد

اسلام آباد، 11 سالہ معصوم فرشتہ کی مسخ شدہ نعش برآمد
اسلام ٹائمز۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے 15 مئی کو لاپتہ ہونے والی 11 سالہ بچی فرشتہ کی مسخ شدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔ فرشتہ کا تعلق قبائلی علاقے مہمند سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق فرشتہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی نعش قریبی جنگل میں پھینک دی گئی تھی۔ معصوم فرشتہ کی نعش برآمد ہونے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ’جسٹس فار فرشتہ‘ کے نام سے ’ٹاپ ٹرینڈ‘ بھی بن گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میاں افتخار حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا کہ ظلم ہے کہ فرشتہ نامی بچی 15 مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئی جس پر بمشکل اغواء کا پرچہ درج کیا گیا مگر کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ میاں افتخار حسین کے مطابق 20 مئی کو جب فرشتہ کے گھروالوں نے دھرنا دیا تو نعش برآمد ہوئی مگر اب نعش پوسٹ مارٹم کے انتظار میں ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نعش کا پوسٹ مارٹم کرکے مجرمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ فرشتہ نامی بچی 15 مئی کو اسلام آباد میں غیب کردی گئی۔ بمشکل اغوا کا پرچہ تھانے میں درج ہوا مگر کچھ کاروائی نہیں ہوئی 20 مئی کو لواحقین نے دھرنا دیا تو لاش برآمد ہوئی اب پوسٹمارٹم کیلئے لاش پڑی ہے۔ پوسٹمارٹم بھی کیا جائے اور مجرموں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی خاتون رہنما پلوشہ عباس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ 15 مئی کو چک شہزاد سے لاپتہ ہونے والی 11 سالہ بچی فرشتہ کی نعش مل گئی ہے، فرشتہ مہمند کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ پلوشہ عباس کے مطابق متاثرہ خاندان انصاف کا متلاشی ہے لہٰذا اس چیز کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کیا جائے۔ واضح رہے کہ پولیس نے واقعہ کی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
خبر کا کوڈ : 795461
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب