1
Tuesday 21 May 2019 23:31

ایران کے مسئلے میں ٹرمپ تنہاء ہوگئے، امریکی تجزیہ نگار

ایران کے مسئلے میں ٹرمپ تنہاء ہوگئے، امریکی تجزیہ نگار
اسلام ٹائمز۔ سیاسی و اقتصادی خبروں کا تجزیہ و تحلیل کرنے والی امریکی کمپنی "بلومبرگ" نے امریکی صدر ٹرمپ کے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے موقف میں بین الاقوامی سطح پر تنہاء ہو جانے کے بارے میں اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک خارجہ سیاست سے لے کر شمالی کوریا اور ونزویلا تک کے مسائل پر صدر ٹرمپ کے ہر منصوبے کی اندھا دھند حمایت کرتے چلے آئے ہیں، لیکن گذشتہ ہفتے جیسے ہی ایران کے مسئلے پر تناؤ کی شدت میں اضافہ ہوا، یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ اس مسئلے پر امریکی صدر بالکل تنہاء ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانا، طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے کو عجلت میں خلیجی مشن پر روانہ کرنا، پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور B-52 بمبار طیاروں کے ایک اسکاڈرن کو خطے میں تعینات کرنا بلکہ ان سب سے بڑھ کر ایران کے خلاف روز افزوں امریکی دھمکیاں واشنگٹن کے اتحادیوں کے لئے حقیقی پریشانی کا باعث بن گئیں، جبکہ اس تمام تر صورتحال میں ٹرمپ کی طرف سے واضح حکمت عملی کا فقدان بھی امریکی اتحادیوں کی پریشانیوں کو دوچنداں کرنے کا سبب بنا۔

نیٹو میں سلواکیہ کے سابق مستقل نمائندے اور لندن میں قائم "یورپی اصلاحاتی مرکز" کے سابق ڈائریکٹر "ٹومس ویلیزیک" کا کہنا ہے کہ آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے، ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں، کیونکہ لگتا ایسا ہے کہ امریکی بھی نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے اور شاید خود ٹرمپ کو بھی نہیں پتہ کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے ماقبل امریکی صدر "اوباما" کے فوجی عزائم پر سخت تنقید کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر خود بھی ایران کے ساتھ پیدا ہونے والے تازہ تناؤ کی شدت کو عملی طور پر کم کرنے کے لئے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر مبنی اپنی خواہش کا اظہار کرنے پر مجبور ہوگئے۔

دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تناؤ کی اس تازہ صورتحال کے دوران ایشیا کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے، جس میں انہیں چین، بھارت، اور جاپان کی طرف سے مثبت اشارے بھی ملے ہیں۔ بھارت نے اعلان کیا ہے کہ انتخابات کے بعد وہ ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا جبکہ جاپان کے وزیراعظم "شینزوآبہ" نے بھی ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA)، جس سے گذشتہ سال امریکہ یکطرفہ طور پر دستبردار ہوگیا تھا، پر اپنی حکومت کے پابند رہنے پر تاکید کی ہے، جبکہ چین نے نہ صرف پہلے دن سے ہی ایرانی تیل کی برآمدات پر لگنے والی امریکی پابندیوں کی مخالفت کی تھی بلکہ وہ بدستور ایران سے تیل خرید بھی رہا ہے۔

امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو اپنی صدارت کے پہلے دو سالوں کے دوران سیاست خارجہ کے دوسرے ہاٹ ایشوز پر، مجبوری کے عالم میں ہی سہی، امریکی اتحادیوں کی کافی سپورٹ حاصل تھی، جیسا کہ جاری سال کے دوران وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر "جوآن گائیڈو" کو وینزویلا کا صدر قرار دے دینے پر مبنی ٹرمپ کے اقدام کی 54 ممالک نے حمایت کی تھی۔ البتہ ایران کے ساتھ تناؤ کے تناظر میں امریکی تجزیہ نگار دو ایسے محرکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جنہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافے کا بڑھ چڑھ کر استقبال کیا اور وہ "اسرائیل" اور "سعودی عرب" ہیں۔

غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے تب کہا تھا کہ وہ ایران کی جارحیت پر مبنی پیشقدمی کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے ڈپٹی وزیر دفاع اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی تیل کے پمپنگ پلانٹس اور پائپ لائنز پر یمنی مزاحمتی تنظیم انصاراللہ کی طرف سے ہونے والا ڈرون اٹیک ایک "دہشتگردانہ اقدام" ہے، جو تہران کے حکم پر انصاراللہ کے ہاتھوں انجام پایا ہے جبکہ ان دو حامیوں کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر امریکی صدر کے ایران کے ساتھ تناؤ کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں۔

دوسری طرف برطانوی کمانڈر میجر جنرل کریس گیکا نے اپنے مافوق امریکی اور برطانوی جنرلز سے علی الاعلان سرزنش پانے سے قبل امریکی آپریشن "ذاتی حل" (Inherent Resolve) کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پینٹاگون کی طرف سے جاری کردہ ایران اور عراق و شام میں موجود اس کے اتحادی مزاحمتی گروپس کی طرف سے مبینہ خطرے پر مبنی وارننگ کے خلاف واضح الفاظ میں یہ کہہ دیا تھا کہ عراق اور شام میں موجود ایران کے حمایت یافتہ مزاحمتی گروپس کی طرف سے کوئی بڑھتا خطرہ محسوس نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جرمنی کے ڈپٹی وزیر خارجہ نے بھی ایران کے خلاف حالیہ امریکی اقدامات کو "ناگوار اور خود سرانہ امریکی اقدامات کا ایک نمونہ" قرار دیا تھا، درحالیکہ امریکی حکومت کے ایران کے لئے خصوصی ایلچی اور امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپیو" کے سینیئر پالیسی ایڈوائزر "برائن ہک" نے بارہا اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے مسئلے پر اپنے اتحادیوں کے درمیان تنہاء نہیں ہوا۔

البتہ وہ چیز جس نے امریکہ کے یورپ کے ساتھ تعلقات پر اپنا اثر ڈال رکھا ہے، جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کی خودسرانہ دستبرداری کی وجہ سے یورپ کے حصے میں آنے والی ٹھوکریں اور ناگوار صورتحال ہے، جبکہ ایرانی حکام نے اپنے یورپی ہم پیمانوں کو 60 دن کی مہلت دے رکھی ہے، جس کے دوران انہیں جوہری معاہدے (JCPOA) کے مطابق ایران کے اقتصادی فوائد سے بہرہ مند ہونے کا ماحول فراہم کرنا ہے یا پھر یہ کہ ایران اس معاہدے کی بعض بنیادی محدودیتوں کا پابند نہیں رہے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے دوران ایک مرتبہ امریکی عزائم کے بارے پائے جانے والے ابہام پر بھی بات چیت کی تھی اور کہا تھا کہ امریکی عزائم کے بارے پایا جانے والا یہ ابہام اُن کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان جھوٹی اور منگھڑت خبروں، جو منتشر کی جا رہی ہیں، کے مقابلے میں (فائدہ یہ ہے کہ) ایران یہ نہیں جانتا کہ دراصل کیا ہو رہا ہے، جبکہ امریکی صدر کو اپنے اس رویّئے پر ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جب محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ جب B ٹیم (بولٹن، بن سلمان، بن زائد اور بنجمن نیتن یاہو) ایک بات کہہ رہی ہو اور امریکہ دوسری تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ امریکہ ہی ہے جسے کسی چیز کی خبر نہیں۔
خبر کا کوڈ : 795590
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے